السلام علیکم! کیا فرماتے ہے مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا بائنری ٹریڈنگ حلال ہے اگر اس میں سود پایا جاتا ہو ؟
واضح ہو کہ بائنری ٹریڈنگ میں چونکہ کسی چیز کے متعلق پیش گوئی کر کے اس پر پیسے لگانے ہوتے ہیں، کہ فلاں چیز فلاں تاریخ کو مہنگی ہوگی یا سستی ہوگی، پھر اگر وہ پیش گوئی درست ثابت ہوجائے، تو پیش گوئی کرنے والے کو مزید رقم مل جاتی ہے، جبکہ پیش گوئی غلط ثابت ہونے کی صورت میں اصل رقم بھی ڈوب جاتی ہے، لہذایہ قمار /جوے کی ایک صورت ہے جو شرعاً ناجائز اور حرام ہے ، لہذا اس قسم کی تجارت میں حصہ لینا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالی: یٰۤاَیّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ الآیۃ (آیتـ 90 سورۃ المائدۃ)
وفی مشکاۃ المصابیح: عن جابر رضی اللہ عنہ قال: لعن رسول اللہ ﷺ آکل الربا ومؤکلہ وکاتبہ و شاھدیہ، وقال "ھم سواء" رواہ مسلم (کتاب البیوع الفصل الأول ج1 صـ425 ط:بشری)
وفی الھندیۃ: السابق یجوز (إلی قولہ) وإنما یجوز ذلک إن کان البدل معلوما فی جانب واحد بأن قال إن سبقتنی فلک کذا و إن سبقتک لاشیء لی علیک أو علی القلب أما اذا کان البدل من الجانبین فھو قمار حرام الخ (کتاب الکراھیۃ الباب السادس فی المسابقۃ ج5 صـ324 ط:ماجدیۃ)
وفی الدر المختار: (إن شرط لمال) فی المسابقۃ (من جانب واحد وحرم لو شرط) فیھا (من الجانبین) لأنہ یصیر قمارا (إلا اذا ادخلا ثالثا) محللا (بینھما) الخ(کتاب الحظر والإباحۃ فصل فی البیع ج6 صـ 403 ط:سعید)