نکاح

بیوی کو تین طلاقیں دینے کے بعد اپنی سالی سے نکاح کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
70057
| تاریخ :
2023-12-31
معاملات / احکام نکاح / نکاح

بیوی کو تین طلاقیں دینے کے بعد اپنی سالی سے نکاح کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں!علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمیٰ محمد خالد بٹھی ولد محمد شفیع بھٹی کا نکاح آج سے تقریباً بارہ سال قبل مسماۃ رخسار بنتِ محمد ریاض سے ہوگیا تھا، اس نکاح سے ہماری دو بیٹیاں ہیں ،گذشتہ یکم اگست کو میں نے اپنی بیوی رخسار کو زبانی طور پر تین طلاق دی ہیں ،الفاظِ طلاق یہ تھے "رخسار میں نے تمہیں طلاق دی ، طلاق دی ،طلاق دی"اور یہ طلاق میں نے ان کے مطالبے پر دی تھی ،پھر اس کے بعد ہر حیض کے بعد بھی ایک ایک طلاق دیتا رہا،یہاں تک کہ ان کے کہنے کے مطابق تین حیض پورے ہو گئے،اور میں نے تین طلاقیں بھی پوری کیں،اس کے بعد تیرا دسمبر 2023ھ کو میں نے ان کی بہن سے نکاح کر لیا،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ ہمارا یہ دوسرا نکاح شرعاً درست منعقد ہوا کہ نہیں،جو بھی حکمِ شرعی ہو،تحریر فرماہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائل نے اگر یکم اگست 2023ھ کو زبانی طور پر اپنی بیوی مسماۃ رخسار بنتِ محمد ریاض کو اس کے مطالبے پر تین طلاقیں دی ہوں،اور پھر اسے تحریری شکل دیکر تحریری طلاق نامہ بھی بنوایا ہو،اور پھر سائل کی مطلقہ بیوی مسماة رخسار بنتِ محمد ریاض کی عدت مکمل ہونے کے بعد سائل نے اس کی بہن مسماۃ فائزہ بی بی بنت محمد ریاض سے با قاعدہ گواہوں کی موجودگی میں شریعت کے مطابق نکاح کیا ہوتو ایسی صورت میں یہ نکاح بلاشبہ جائز اور درست منعقد ہوا ہے،چنانچہ اب سائل اور اسکی منکوحہ مسماۃ فائزہ بی بی بنت محمد ریاض کیلئے میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرنا جائز اور درست ہے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70057کی تصدیق کریں
0     719
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات