مجھے شاور سے غسل کرنے کا آسان طریقہ بتا دیں ، میں بہت زیادہ وقت لگاتا ہوں غسل کرنے میں ، دوسرا مجھے تقریباً ہر دوسرے دن مذی نکلتی ہے جب رات کو سو کر اٹھتا ہوں ، تو کیا غسل لازم ہے ؟ بہشتی زیور کے مطابق سوکر اٹھنے کے بعد اگر کچھ بھی نظر آئے تو غسل کرنا پڑے گا ، ہر دوسرے روز غسل کرنے میں حرج ہوتا ہے۔
سوال میں ذکر کردہ الفاظ " سوکر اٹھنے کے بعد اگر کچھ بھی نظر آئے تو غسل کرنا پڑے گا" کے ساتھ تو کوئی مسئلہ بہشتی زیور میں نہیں ملا، اس لئے اگر سائل کتاب کا صفحہ اور مطبع کے وضاحت ساتھ لکھ کر ارسال کردے تو اس سے متعلق وضاحت کردی جائیگی، تاہم اگر کسی کو نیند سے بیدار ہونے کے بعد احتلام یاد نہ ہو، اور جسم یا کپڑوں پر لگی ہوئی تری کے مذی ہونے کا پورا یقین ہو، تو ایسی صورت میں اس پر غسل کرنا لازم نہیں ، جبکہ غسل کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اول دونوں ہاتھ گھٹوں تک دھوئے، پھر استنجاء کرے اور بدن سے حقیقی نجاست دھو ڈالے، پھر وضو کرے، پھر فوارے سے ہو یا کسی اور چیز سے اپنے سارے بدن پر تین مرتبہ پانی بہائے، ایسا کرنے سے سائل کا بدن پاک ہوجائیگا، جس کے بعد بلا ضرورت شک و شبہات میں نہ پڑھنا چاہیئے، تا کہ وساوس کی بیماری لاحق ہونے سے بچا جاسکے۔
كما في الدر المختار: (و) عند ( رؤية مستيقظ ) خرج رؤية السكران والمغمى عليه منيا أو مذيا ( وإنه لم يتذكر الاختلام اھ (ج 1 ص 163 ط: سعید)۔
وفى الهندية : وإن استيقظ الرجل ووجد على فراشه أو فخذه بللا وهو يتذكر احتلاما إن تيقن أنه مني أو تيقن أنه مذي أو شك أنه مني أو مذي فعليه الغسل وإن تيقن أنه ودي لا غسل عليه وإن رأى بللا إلا أنه لم يتذكر الاحتلام فإن تيقن أنه ودي لا يجب الغسل وإن تيقن أنه مني يجب الغسل وإن تيقن أنه مذي لا يجب الغسل وإن شك أنه مني أو مذي قال أبو يوسف رحمه الله تعالى : لا يجب الغسل حتى يتيقن بالاحتلام ، وقالا : يجب اھ (ج1 ص15 ط: ماجدیہ)۔واللہ اعلم