میری والدہ میرے پسند کے رشتے سے راضی نہیں تھی تو ان کی وفات کے بعد کیا میں وہ کر سکتا ہوں کوئی گناہ تو نہیں؟
سائل کا والدین کی رضامندی کے بغیر اپنے طور پسند کی شادی کرنا تو مناسب نہیں تھا،جوان لڑکے لڑکی کا والدین کی اجازت و رضامندی کے بغیر نکاح کرنا عرفا بہت معیوب سمجھا جاتا ہے،اس لئے سائل کو مذکور طرز عمل سے اجتناب کرنا چاہئے،تاہم سائل جس لڑکی کے ساتھ نکاح کرنے کا خواہش مند ہے،اس میں اگر کوئی دینی اور اخلاقی برائی نہ ہو ،سائل کی والد ہ کو وہ لڑکی بغیر کسی وجہ کے طبعی طور پر پسند نہ تھی تو ایسی صورت میں اب والدہ کی وفات کے بعد سائل کے لئے اپنے بڑوں کی مشاورت سے مذکور لڑکی کے ساتھ نکاح کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں،البتہ اگر کسی معقول اور معتبر وجوہات کی وجہ سے سائل کی والدہ کو سائل کا مذکور جگہ رشتہ کرنا پسند نہ تھا اور وہ وجوہات ابھی بھی ہوں تو ایسی صورت میں سائل کو مذکور لڑکی کے ساتھ شادی کرنے کے بجائے کسی دوسری مناسب جگہ رشتہ کرنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔