میں اپنے شوہر سے خلع لینا چاہتی ہوں ، لیکن وہ راضی نہیں ہے ، کہا: عدالت جاؤ ،اب اگر عدالت جاتی ہوں تو عدالت کی یکطرفہ خلع جائز نہیں ہے، شوہر اگر آجائے اور جج عورت ہوئی تو کیا خلع ہوجائےگی؟ ایسی صورت میں پھر کیا کروں ؟ میں شوہر کے ساتھ محفوظ نہیں ہوں، عورت کےلیے اتنی مشکلات کیوں ہوگئی ہیں ؟ اللّٰہ نے تو بہت آسانیاں دی ہیں، قانون اور شریعت کا اختلاف ہے۔
واضح ہو کہ حدود و قصاص کے علاوہ دیگر معاملات مثلاً : نکاح ، طلاق ، خلع وغیرہ میں اگر عورت بطورِ جج ، شرعی اور قانونی ضابطوں کو ملحوظ رکھ کر کوئی فیصلہ کرتی ہے تو اس کا فیصلہ شرعاً بھی معتبر ہوگا , جبکہ عدالت سے خلع لینے کی صورت میں اگر شوہر عدالت حاضر ہوکر باقاعدہ اس پر آمادگی ظاہر کرکے دستخط کردیتا ہے تو یہ خلع شرعاً بھی درست ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوجائے گا , ورنہ عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری سے عموماً نکاح ختم نہیں ہوتا ، اس لئے اگر سائلہ اپنے شوہر کے ساتھ مزید زندگی گزار نے کے لئے تیار نہ ہو ، بلکہ علیحدگی کا فیصلہ کرچکی ہو ، تو اسے چاہیئے کہ عدالت کے ذریعہ یکطرفہ خلع لینے کے بجائے اسے طلاق بالمال وغیرہ پر آمادہ کرکے علیحدگی اختیار کرے ، تاکہ یہ معاملہ شرعاً بھی درست ہوسکے ۔
کما فی تنویر الأبصار : ( و المرأۃ تقضی فی غیر حد و قود و إن اثم المولیٰ لھا ) إلخ ( ج 5 ، ص 440 ، ط : سعید )