میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں، لیکن میں جس سے شادی کرنا چاہتا ہوں وہ چاہتی ہے کہ میں اپنی پہلی بیوی سے جسمانی تعلق نہیں رکھوں گا، باقی ہر قسم کا تعلق رکھ سکتا، کیا میرے لئے یہ جائز ہے؟ اس سے نکاح حرام ہوتا ہے؟
سائل اگر دو بیویوں کے درمیان نان و نفقہ اور شب باشی وغیرہ دیگر حقوق میں برابری رکھنے کی استطاعت رکھتا ہو ، تو ایسی صورت میں سائل کےلئے شرعاً دوسرا نکاح کرنا جائز ہوگا ، جبکہ سائل کی ہونے والی دوسری بیوی کا سائل پر پہلی بیوی کے ساتھ ازواجی تعلق قائم نہ رکھنے کی شرط عائد کرنا شرعاً درست نہیں ، اور نہ ہی سائل کے ذمہ اس شرط کی پاسداری لازم ہوگی ۔
قال اللہ تعالیٰ: فَانْكِحُوُا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَۚ-فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْؕ-ذٰلِكَ اَدْنٰى اَلَّا تَعُوْلُوْا [النِّسَآء:۴]
و فی سنن أبي داؤد : عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من كانت له امرأتان، فمال إلى أحدهما جاء يوم القيامة وشقه مائل۔(3 / 469)۔
و فی الھندیة: وإذا كانت له امرأة و أراد أن يتزوج عليها أخرى وخاف أن لايعدل بينهما لايسعه ذلك، وإن كان لايخاف وسعه ذلك۔(1/ 341)۔
و فی الدر المختار: (يجب) وظاهر الآية أنه فرض نهر (أن يعدل) أي أن لا يجور (فيه) أي في القسم بالتسوية في البيتوتة (وفي الملبوس والمأكول) والصحبة (لا في المجامعة) كالمحبة بل يستحب. (201/3)