تجدیدِ نکاح کا اسلام میں کیا مجاز ہے؟
سائل کا سوال پوری طرح واضح نہیں، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا۔ تاہم اتنی بات ذہن نشین رہے کہ شوہر جب تک بیوی کو طلاق یا خلع نہ دیدے یا میاں بیوی میں سے کوئی کفریہ کلمہ نہ کہہ دے تو اس وقت تک دونوں کا نکاح برقرار رہتا ہے، لہذا بلاوجہ تجدیدِ نکاح کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر شوہر بیوی کو طلاقِ بائن دیدے یا طلاق رجعی دیکر دورانِ عدت رجوع نہ کرے یا تین طلاقیں دیدے اور بیوی حلالہ کرواکر پہلے شوہر کے پاس آنا چاہے تو ان صورتوں میں تجدیدِ نکاح لازم ہوگا۔
اسی طرح میاں بیوی میں سے اگر کوئی مرتد ہوجانے کے بعد توبہ تائب ہوکر تجدیدِ ایمان کرلے اور ایک ساتھ رہنا چاہیں تو ایسی صورت میں بھی تجدیدِ نکاح لازم ہوگا۔
کما فی حاشية ابن عابدين: نعم سيذكر الشارح أن ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح، وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح وظاهره أنه أمر احتياطا اھ (4/ 230)
وفی الهندية: مَا كَانَ فِي كَوْنِهِ كُفْرًا اخْتِلَافٌ فَإِنَّ قَائِلَهُ يُؤْمَرُ بِتَجْدِيدِ النِّكَاحِ وَبِالتَّوْبَةِ وَالرُّجُوعِ عَنْ ذَلِكَ بِطَرِيقِ الِاحْتِيَاطِ، وَمَا كَانَ خَطَأً مِنْ الْأَلْفَاظِ، وَلَا يُوجِبُ الْكُفْرَ، فَقَائِلُهُ مُؤْمِنٌ عَلَى حَالِهِ، وَلَا يُؤْمَرُ بِتَجْدِيدِ النِّكَاحِ وَالرُّجُوعِ عَنْ ذَلِكَ كَذَا فِي الْمُحِيطِ. (2 / 283)
وفی الفتاوى الهندية: إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية (1/ 473)