میں Ocd کا شکار ہوں ،براہ کرم اس مسئلے میں میری مدد کریں، مجھے تقریباً ہر روز اندام نہانی سے عام مادہ آتا ہے جو کبھی خالص سفید اور کبھی پیلا ہوتا ہے، میں نے پڑھاکہ اگر نیند سے بیدار ہو اور مادہ دیکھے تو غسل کرنا ضروری ہے، الجھن کی وجہ سے میں سونے سے بھی ڈرتی ہوں ، کیونکہ جب بھی میں جاگتی ہوں مجھے ڈسچارج ہوتا ہے، کیا مجھے ہر بار بیدار ہونے پر غسل کرنے کی ضرورت ہے، یہاں تک کہ جب مجُھےاحتلام یاد نہ ہو؟ کبھی کبھار میں اس مادے کو زرد پاتی ہوں جو مجھے یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ مجھے غسل کی ضرورت ہے، یہاں تک کہ جب مجھے کوئی احتلام یاد نہیں ہوتا ، براہ کرم میری رہنمائی کریں، کیونکہ میں واقعی الجھن میں ہوں۔ جزاک اللہ!
صورتِ مسئولہ میں اگر نیند کی حالت میں نکلنے والے قطرات اگر منی ہو تو اس کی وجہ سے مطلقاً غسل لازم ہوگا ، چاہے احتلام یاد ہو یا نہ ہو ، تاہم اگر سائلہ کو احتلام یاد نہ ہو اور اسے اس بات کا یقین ہو کہ نکلنے والا مادہ منی نہیں، بلکہ مذی یا ودی ہے،تو ایسی صورت میں سائلہ پر غسل لازم نہ ہو گا ، البتہ یہ مادہ جسم یا کپڑوں کے جس حصہ پر لگ جائے ،تو نماز وغیرہ کی ادائیگی کے لئے اسے دھونا لازم ہوگا، جبکہ عورتوں کی منی پتلی اور زرد رنگ کی ہوتی ہے جس کے نکلنے کے بعد شہوت ختم ہوجاتی ہے اور مذی مائل بسفید وہ پتلا لیس دار مادہ ہوتاہے جس کے نکلنے کے بعد شہوت ختم نہیں ہوتی ہے، بلکہ بدستور برقرار رہتی ہے، لہذا سائلہ اس مادہ کی کیفیت اور اپنی طبیعت کو دیکھ کر اس کے مطابق عمل کرے۔
كما في الدر المختار: (و) عند ( رؤية مستيقظ) خرج رؤية السكران والمغمى عليه المذي منياً أو مذياً ( وإن لم يتذكر الاحتلام )إلا إذا علم انه مذى أو شك أنه مذى أوودى (إلى قوله) فلا غسل عليه اتفاقاً کالو دی الخ (ج 1 ص ۱۶۳سعید)۔
وفى الهندية: وإن استيقظ الرجل ووجد على فراشه أو فخذه بللا وهو يتذكر احتلاماً ان تيقن أنه مني او تيقن أنه مذی أوشك أنه منى او مذی فعليه الغسل واں تيقن أنه ودى لا غسل عليه وإن راى بللا إلا انه لم يتذكر الاحتلام فان تيقن أنه ودى لا يجب الغسل وان تيقن أنه منى يجب الغسل وإن تيقن أنه مذى لا يحب الغسل وان شك انه منى أو مذی قال ابو يوسف رح لا يجب الغسل حتى يتيقن بالإحتلام، وقالا يجب (الى قولہ) والمرأة كذلك الخ (ج1 ص 15 ط: ما جدية)۔واللہ اعلم