والد کے ادب اور احترام کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ میری اولاد نے مجھ کو گالیاں دیں، گھر سے بے گھر کر دیا اور قتل کرنے کی دھمکی دی الغرض بد کلامی اور بہت زیادہ تضحیک کی اور ہر حوالے سے ذلیل کیا ، میں مجبوراً الگ رہتا ہوں اور دوسرا نکاح کر لیا ہے، بطورِ باپ میرا کردار کیا ہونا چاہئیے ؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو کہ سائل کے بیٹوں نے واقعۃً سائل کو گالیاں وغیرہ دیکر گھر سے نکال دیا ہو اور ان کی تو ہین کی ہو اور ایذا پہنچائی ہو تو اس کی وجہ سے بیٹے سخت گناہ گار ہوئے ہیں،ان پر لازم ہے کہ اپنی اس حرکت پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کے ساتھ ساتھ سائل سے بھی دست بستہ معافی مانگیں اور آئندہ اس قسم کی حرکات سےمکمل اجتناب کریں، چنانچہ اگر اولاد کو ا پنی غلطی کا احساس ہوجائے اور سب ملکر سائل سے معافی مانگیں اور آئندہ دوبارہ اس قسم کی گھٹیا حرکت سے بچنے کا پختہ عزم کرلیں، تو سائل کو وسعتِ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو دل سے معاف کر دینا چاہئیے۔
کما فی احکام القرآن للجصاص: قوله تعالی{ولاتنھرھما}معناہ لاتزجرھما علی وجه الاستخفاف بھما و الاغلاظ لھما قال قتادہ فی قوله {وقل لھما قولا کریما} قال لینا سھلاً اھ (3/197)۔
و فی صیحح مسلم: حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حدثنا أبو خالد الأحمر سليمان بن حيان، عن منصور بن حيان، عن أبي الطفيل، قال: قلنا لعلي بن أبي طالب، أخبرنا بشيء أسره إليك رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: ما أسر إلي شيئا كتمه الناس، و لكني سمعته يقول: «لعن الله من ذبح لغير الله، و لعن الله من آوى محدثا، و لعن الله من لعن و الديه، و لعن الله من غير المنار» اھ (1978)۔