نکاح

لڑکی کی جانب سے انکار کے باوجود کروائے گئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
69194
| تاریخ :
2023-11-14
معاملات / احکام نکاح / نکاح

لڑکی کی جانب سے انکار کے باوجود کروائے گئے نکاح کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکی (جس کی عمر تیرہ سال سے کچھ زائد ہے)جس کا نکاح اس کے والدین کی اجازت سے دادا نے کروایا ہے، نکاح سے پہلے جب اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ آپ کا نکاح فلاں لڑکے کیساتھ ہم کر رہے ہیں، تو لڑکی نے صاف انکار کر دیا، اس انکار کے باوجود لڑکی کے دادا نے پھر بھی نکاح کروا دیا، جب نکاح کا علم لڑکی کو ہوا تو اس نے دوبارہ انکار کر دیا اور اب بھی کر رہی ہے، اب لڑکی کی عدمِ رضامندی کی وجہ سے والدین بھی اس نکاح کو فسخ کرنا چاہتے ہیں، لڑکی کی عمر اگر چہ تیرہ سال ہے لیکن لڑکی عاقلہ ہے اور بالغہ بھی ہے، کیونکہ بلوغت کی علامت(احتلام) کا وہ خود اقرار کرتی ہے کہ مجھے احتلام ہوتا ہے ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ مذکور مسئلے میں اس لڑکی کو خیارِ بلوغ حاصل ہوگا یا نہیں؟
دوم یہ کہ والدین عدالت کے ذریعہ اس نکاح کو فسخ کر سکتے ہیں یا نہیں؟ نیز عدالت اگر نکاح فسخ کرے تو اسکی شرعی حیثیت کیاہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور کمی بیشی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ مذکورہ لڑکی نکاح کے وقت عاقلہ و بالغہ تھی اور اس نے نکاح سے قبل اور نکاح کا علم ہوجانے کے بعد اس نکاح سے انکار کرتے ہوئے اس نکاح کو مسترد کردیا تھا،تو ایسی صورت میں یہ نکاح درست منعقد نہیں ہوا، بلکہ یہ نکاح باطل ہے،اور چونکہ یہ نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہوا اس لئے شرعاً بذریعۂ عدالت اس نکاح کو فسخ کرنے کی ضرورت نہیں،بلکہ اب مذکورہ لڑکی عدالتی کاروائی کے بغیر بھی کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المحتار : ( و لا تجبر البالغة البكر على النكاح ) لانقطاع الولاية بالبلوغ ( فإن استأذنها هو) أي الولي و هو السنة اھ (3/ 58).
و فی الهندية : لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته ؛ جاز ، و إن ردته بطل اھ (1/ 287).
و فیہا ایضاً : و أما شروطه ( و منها ) رضا المرأة إذا كانت بالغة بكرا كانت أو ثيبا فلا يملك الولي إجبارها على النكاح عندنا ، كذا في فتاوى قاضي خان ۔ اھ (1 /269).

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شہزاد ذوالفقار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69194کی تصدیق کریں
0     1257
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات