نکاح

نکاح میں صرف لڑکی سے ایجاب یا قبول کروانےسے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
69057
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نکاح میں صرف لڑکی سے ایجاب یا قبول کروانےسے نکاح کا حکم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ !
محترم مفتیانِ کرام ! ایک شرعی مسئلے کے متعلق قرآن و سنت و حدیث کی روشنی میں آپ کی رہنمائی اور فتویٰ درکار ہے،عرض یہ ہے کہ میرے بیٹے "محمد شہریار ولدِ محمد یوسف آدم کرار " کی شادی دختر محمد قاسم ویانی سے مؤرخہ 10نومبر2023 کو بمقام اوکھائی میمن جامع مسجد بعد از نمازِ جمعہ ہونا قرار پائی ، جس کے تحت مؤرخہ 05-11-2023 کو دلہن کے گھر ایک تقریب منعقد کی گئی اور اس میں دلہن کے وکیل اور دو گواہان اور دولہا کے والد"محمد یوسف آدم کرار" کی موجودگی میں دلہن سے ایجاب و قبول کی تقریب دلہن کے گھر میرے سمدھی محمد قاسم ویانی کے گھر منعقد ہوئی ، یہاں پر ایک بات واضح کرنا چاہوں گا کہ محمد قاسم کی دونوں بیٹیوں کی شادی ہو رہی تھی اور مشترکہ طور پر اس تقریب میں دختر نیک اختر بنت محمد قاسم ویانی کی بیٹی سے ان کے وکیل اور دوگواہان اور دولہا کے والد کی موجودگی میں حقِ مہر کی ادائیگی کے ساتھ دولہن سے تین دفعہ محمد شہریار ولد محمد یوسف آدم کرار کا نام لیتے ہوئے ایجاب و قبول کروایا گیا اور دولہن نے آواز کے ساتھ تمام شرکاء تقریب کی موجودگی میں یہ اقرارکیا "قبول ہے ،قبول ہے ، قبول ہے"کہا ، لہٰذا آپ سے یہ فتویٰ درکار ہے کہ آیا کہ یہ نکاح ہوگیا اور اس کے ایجاب و قبول کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جبکہ دولہا کا ایجاب و قبول مسجد میں ہونا باقی ہے ، مذکورہ تناظر میں دولہن "شیر یار ولد محمد یوسف آدم کرار" کی شرعی منکوحہ کہلائے گی ؟ مزید براں مؤرخہ 5-11-2023کو رات کو دولہا اور دولہن کے کچھ افراد میں کچھ باتوں پر اختلافات ہوئے اور یہ تنازعہ اس قدر بڑھ گیا جس سے نقصِ امن کا خطرہ لاحق ہوسکتا تھا ، لہٰذا دولہا کی جانب سے کچھ شرکاء میرے عزیز و اقارب نے دلہن کے جانب سے کھانا کھایا اور مجھ سمیت میرے گھر کی خواتین اور کچھ افراد نے کھانا نہیں کھایا اور مزید بات نہ بڑھنے کے سبب وہاں سے روانہ ہوگئے ، لیکن دلہن کی جانب سے کوئی بھی شخص اس جھگڑے کی ثالثی کے لئے , حتیٰ کے دلہن کے والد محمد قاسم ویانی نے بھی اس معاملے میں کوئی پیش رفت نہیں کی ، بلکہ دلہن کے گھر کی خواتین اور دولہا کے گھر کی خواتین میں تند و تیز لفظوں کا استعمال ہوا ، اسطرح موقع کے نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہم نے وہاں سے واپس آنا مناسب سمجھا ، چنانچہ مذکورہ معاملے کو درگزر کرنے کے لئے ہم مؤرخہ 06-11- 2023 کو میں اپنی اہلیہ، محمد شیر یار کے ماموں ، ممانی ، خالو ، خالہ ان کے گھر دونوں خاندانوں کی جانب سے درگزر اور معافی تلافی کے لئے تقریباً رات9:00بجے پہنچے ، وہاں پر موجود دلہن کے والد محمد قاسم ، دلہن کے چچا ، چچی(نام نامعلوم) ، پھوپھا ، پھوپھی ، خالو ، خالہ اوردلہن کے ماموں بھی موجود تھے ، جب محمد قاسم ویانی نے اپنی گفتگو کا آغاز ان الفاظ سے کیا کہ مجھے یہ رشتہ نہیں رکھنا ہے اور میں رشتہ توڑ رہا ہوں اور اس پر وہ اٹل جواب تھا ، ساتھ ہی ان کے تمام قریبی رشتہ دار بھی بار بار تکرار کررہے تھے کہ یہ رشتہ نہیں رکھنا اور ہمارے سامنے ہی دلہن کے والد کو یہ دھمکی آمیز الفاظ کہہ رہے تھے کہ قاسم اگر تو نے یہ رشتہ دوبارہ جاری رکھا تو ہمارا اور تمہار ا رشتہ ختم ہوجائے گا اور دولہن کے چچا نے حلفاً یہ کہا کہ میں نکاح نامہ ہی اپنے گھر لے گیا ہوں اور زیادہ مجھ سے بحث کروگے تو میں نکاح نامہ پھاڑ دونگا ، دولہا کی جانب سے تمام شرکاء نے دولہن کے والدین اور ان کے شرکاء کی بہت منت سماجت کی کہ یہ رشتہ ہم نہیں توڑنا چاہتے ، تمام پروگرام طے ہوچکے ہیں ، ہم اس رشتے کو قائم رکھنا چاہتے ہیں اور لڑکا ، لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں ، لہٰذا دونوں بچوں کی زندگی برباد نہ کی جائے ، بار بار دولہا کے والد (میں) دولہن کے والد محمد قاسم کے ہاتھ پیر تھام کر اور ہاتھ جوڑ کر ان سے التجاء کیے جارہے تھے ،لیکن وہ بار بار یہ کہہ رہے تھے کہ مجھے یہ رشتہ نہیں رکھنا ، کم و بیش ڈیڑھ گھنٹے کی طویل بحث و تکرار ہوتی رہی ، اس کے بعد ہمارے کہنے پر لڑکی دلہن کو بلایا گیا ، اُس نے بھی اُس مجلس میں یہ الفاظ کہے کہ میرے لئے میرے والد کی عزت محترم ہے اور وہ جو چاہیں گے وہ کرونگی اور یہ ملاقات چند سکینڈوں کی کی گئی اور دولہن کو فوری طور پر اس مجلس سے واپس لے گئے، اب یہاں پر یہ بات تشویش ناک اور شریعت کے خلاف تھی کہ لڑکی نے نکاح کے لئے دستخط کردیے تو وہ مکمل باپردہ لباس میں دیگر قریبی اہلخانہ کے سامنے آسکتی ہے ، جبکہ اُس کا کوئی پردہ نہیں تھا ، دولہن کے گھر والوں کا کہنا تھا یہ ہم نے لڑکی کو مایوں میں نہیں بٹھایا ہے ، جبکہ اس دوسری بہن جس کی ساتھ شادی ہو رہی تھی وہ مایوں اور پردے میں تھی ، اس طرح ہم نے التجاء کرتے ہوئے انہیں مزید سوچ بچار کا وقت دیا کہ آپ اس معاملے میں ایک دفعہ مزید غور فرمائیں اور میں انہیں یہ کہہ کر وہاں سے نکلا کہ میں آپ کا 12بجے رات تک فون کا انتظار کرونگا، آپ مجھے اس بابت کوئی رضامندی میں جواب دیں اور اس رشتے کو نہ توڑیں ، جب اُن سے رات کو بات ہوئی تو انہوں نے یہ پیغام دیا کہ ہم نے نکاح نامہ پھاڑ دیا ہے اور ہم سے اس رشتے کو قائم رکھنے کی آپ اُمید چھوڑ دیں ، ہم کل ظہر کے بعد تمام فرنیچر اور دیگر جہیز کا ساز و سامان لینے آرہے ہیں ، ٭ کیا یہ نکاح اس طرح منسوخ ہوسکتا ہے ، جس طرح لڑکی کے والداور چچا چاہتے ہیں کہ نکاح نامہ پھاڑ دینے سے یہ نکاح ختم ہوگیا ، تمام مفتیانِ کرام سے یہ گذارش ہے کہ اس بابت قرآن و سنت، فقہ و حدیث کی روح سے ہمیں جواب تحریراً آسان اور سلیس زبان میں عنایت فرمایا جائے ، عین نوازش ہوگی ، شکریہ ۔
نوٹ : سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ " ابھی تک باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول نہیں ہوا ، بلکہ صرف لڑکی سے اس کی رضامندی پوچھی گئی ہے ، جس کیلئے ہمارے خاندان میں مذکور طریقہ اپنا یا جاتا ہے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا سوال اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ ابھی تک صرف لڑکی سے اس کی رضامندی پوچھی گئی ہو ، باقاعدہ عاقدین یا ان کے وکیل نے مجلسِ عقد کے اندر گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول نہ کیا ہو تو ایسی صورت میں سائل کے بیٹے مسمی " محمد شہریار ولدِ محمد یوسف " کا نکاح "دختر محمد قاسم ویانی " کے ساتھ شرعاً منعقد ہی نہیں ہوا، بلکہ دونوں ایک دوسرے کیلئے غیر محرم ہیں ، لہذا دونوں خاندانوں کے معزز اور با اثر افراد کو چاہیئے کہ مل بیٹھ کر آپس کے اختلافات ختم کرکے مذکور رشتے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کریں، لیکن ہر ممکن کوشش کے باوجود اگر لڑکی کا والد مذکو رشتے پر راضی نہ ہو رہا ہو تو ایسی صورت میں سائل کیلئے اس رشتے پر زبردستی کرنا درست نہیں، بلکہ اسے چاہیئے کہ اپنے بیٹے کیلئے کسی دوسری مناسب جگہ رشتے کا بندو بست کرے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار : (و شرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما (و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر و حرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) اھ (3/21)۔
و فی البحر الرائق : (قوله: و ينعقد بإيجاب و قبول و ضعا للمضي أو أحدهما) أي ينعقد النكاح أي ذلك العقد الخاص ينعقد بالإيجاب و القبول حتى يتم حقيقة في الوجود و الانعقاد هو ارتباط أحد الكلامين بالآخر على وجه يسمى باعتباره عقدا شرعا اھ (3/87)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حمزہ نفیس خان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69057کی تصدیق کریں
1     2118
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات