کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شرعاً خلع کا کیا حکم ہےاور کیا کورٹ کا خلع طلاق شمار ہوگا ؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، جو عموماً یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگری میں مفقود ہوتی ہے، چنانچہ اگر شوہر کی اجازت و رضامندی کے بغیر عدالت نے یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری کی تو یہ خلع شرعاً معتبر نہیں ہوگا ، اور اس سے شرعاً میاں بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوگا بلکہ بدستور بر قرار ہےگا ، البتہ اگر شوہر کی اجازت و رضامندی سے بیوی نے خلع لیا تو ایسی صورت میں اس سے بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوکر میاں بیوی کے درمیان نکاح ختم ہوجائے گا جس کےبعد بیوی عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی ، اور اگر غلطی اور کوتاہی بیوی کی طرف سے ہو تو ایسی صورت میں شوہر کے لئے ادا شدہ حقِ مہر (مہر معجل ) کو بدلِ خلع قرار دیکر بیوی سے واپس لینا جائز ہوگا ، البتہ اس کے علاوہ شوہر نے بیوی کو باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ جو زیورات وغیرہ دیے ہیں، وہ واپس لینا یا شادی کے موقع پر شوہر نے جو اخراجات کیےہیں ، بیوی سے یا اس کے والدین سے اس کی ادائیگی کا مطالبہ کرنا شرعاً مکروہ ہے ، جس سے اجتناب لازم ہے ۔
جبکہ بیوی کے لئے اپنے شوہر پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگاکر اس کی کردار کشی کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے ، جس کی وجہ سے بیوی سخت گناہگار ہوگی ، جس سے اسے بصدقِ دل توبہ و استعفار اور شوہر سے معافی تلافی کرکے آئندہ کےلئے جھوٹے الزامات لگانے سے اجتناب لازم ہے ۔
کما فی كنز العمال : عن علي قال : البھتان على البراء أثقل من السموات الحكيم . (3/ 802)، رقم الحدیث:(8810)۔
و فى احكام القرآن للجصاص : قال أصحابنا انھما لا يجوز خلعھما الأبرضى الزوجين فقال اصحابنا ليس للحكمين ان يفرفا الأ برضى الزوجين لان الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان و انما الحكمان وكيلان لھما احدهما وكيل المراة و الآخر وكيل الزوج في الخلع (إلى قوله) و كيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاء يخرجا المال عن ملكها ۔ (2 /239)۔
و في المبسوط للسرخسي : (قال) و الخلع جائز عند السلطان و غيره ؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود ، و هو بمنزلة الطلاق بعوض و للزوج ولاية إيقاع الطلاق - (6/173)۔
و فی الدر المختار : (و كره) تحريما (أخذ شيء) و يلحق به الإبراء عما لها عليه (إن نشز و إن نشزت لا) و لو منه نشوز أيضا و لو بأكثر مما أعطاها على الأوجه فتح ، و صحح الشمني كراهة الزيادة ، و تعبير الملتقى لا بأس به يفيد أنها تنزيهية و به يحصل التوفيق . (3 / 445ٰ)۔
و فی الشامیۃ : (قوله و من السحت) بالضم و بضمتين الحرام أو ما خبث من المكاسب فلزم عنه العار جمعه أسحات و أسحت اكتسبه قاموس ، و من السحت : ما يأخذه الصهر من الختن بسبب بنته بطيب نفسه حتى لو كان بطلبه يرجع الختن به مجتبى" . (6/424)۔
و فی الفتاوی الھندية : و إذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها ، منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك ، كذا في الفصول العمادیۃ ۔ (327/1)۔