السلام علیکم ! استادِ محترم مسئلہ یہ ہے کہ میری والدہ ہیں اور میں (بیٹی) اور دو بیٹے ہیں، یعنی ہم تین اولاد ہیں، ایک بیٹے ملک سے باہر ہوتے ہیں اور دوسرے ن
___میں رہتے ہیں، جبکہ والدہ ____میں رہتی ہیں اور بیٹی بھی ____میں ہے، کچھ وجوہات کی بنا پر گذشتہ تین سال سے والدہ اور انکے گھر کی دیکھ بھال بیٹی کر رہی ہے، اب چونکہ والدہ 78 سال کی ہیں اور بیمار ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں 24 گھنٹے دیکھ بھال کی ضرورت ہے، مگر بیٹی اتنا وقت نہیں دے سکتی، کیونکہ اس طرح اسکا اپنا گھر متاثر ہو رہا ہے، اگر چہ بیٹی کے شوہر انتہائی اچھے انسان ہیں اور میں انکی شکر گزار ہوں، مگر اب شرمندہ اور احساسِ ندامت کا شکار ہوں، کیونکہ میں اپنے شوہر اور گھر کو وہ وقت نہیں دے پا رہی جو کہ ان کا حق ہے، والدہ کی دیکھ بھال کرنا کسی کی ذمہ داری ہے؟ کیونکہ میں نے اپنے بھائیوں کے سامنے جب یہ مدعا پیش کیا تو،اوّل: وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہم کیا کریں؟ دوسرا: وہ کہتے ہیں کہ اگر تم یہ سب کہ رہی ہو تو اسکا مطلب امی کو چھوڑ رہی ہو! یا پھر امی کو ایسے ہی رہنے دیتے ہیں اکیلے، جو جذباتی طور پر مجھے کمزور کر دیتا ہے، مگر اب میری ازدواجی زندگی متاثر ہو رہی ہے اور میں بہت ذہنی انتشار کا شکار ہوں، اس لیے آپ کی مدد چاہتی ہوں کہ میرے بھائیوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے اور مجھے کیا ؟ کیونکہ وہ بہت قابل ہیں اور میری بات کے جواب میں انکے پاس بہت کچھ ہے اس لیے میں چاہتی ہوں کہ تفصیل سے آپ اس بارے میں آگاہی دے دیں ۔والسلام
سائلہ اگر شادی شدہ ہونے کے باوجود شوہر کی اجازت سے والدہ کی خدمت اور دیکھ بھال کر رہی ہو تو یہ بہت بڑی سعادت مندی اور خوش بختی کی بات ہے، جس پر وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اجروثواب کی حقدار ہوگی،مگر چونکہ سائلہ کی شادی ہو چکی ہے،اس لئے والدہ کی خدمت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری شرعاً سائلہ کے بھائیوں پر عائد ہو گی،سائلہ کے بھائیوں کا اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے بجائے سائلہ کو جذباتی طور پر باتوں کے ذریعہ پریشان کرنا اور والدہ کی خدمت اور دیکھ بھال میں ٹال مٹول سے کام لینا نہایت ہی غیر ذمہ دارانہ حرکت اور محرومی کی بات ہے،لہٰذا سائلہ کے بھائیوں پر لازم ہے کہ والدہ کی خدمت اور دیکھ بھال کو سعادت سمجھ کر بجا آوری کا اہتمام کریں۔
کما فی السنن الكبرى النسائي: عن عائشة قالت: سألت النبي صلى الله عليه وسلم أي الناس أعظم حقا على المرأة؟ قال: «زوجها» قلت: فأي الناس أعظم حقا على الرجل؟ قال: «أمه»(8/254)
و فی السنن الكبرى النسائي:عن حصين بن محصن، عن عمة له أنها أتت رسول الله صلى الله عليه وسلم لحاجة فلما فرغ من حاجتها قال:«أذات زوج أنت؟»قالت: نعم قال:«فكيف أنت له؟» قالت:ما آلوه إلا ما أعجز عنه قال:«انظري أين أنت منه، فإنه جنتك ونارك»۔(8/185)
و فی الدر المختار:فلا تخرج إلا لحق لها أو عليها أو لزيارة أبويها كل جمعة مرة أو المحارم كل سنة، ولكونها قابلة أو غاسلة لا فيما عدا ذلك،اھ(3/146)
و فی الهندية:قال:ويجبر الولد الموسر على نفقة الأبوين المعسرين مسلمين كانا،أو ذميين قدرا على الكسب،أو لم يقدرا(الی قولہ)وإذا اختلطت الذكور والإناث فنفقة الأبوين عليهما على السوية في ظاهر الرواية، وبه أخذ الفقيه أبو الليث، وبه يفتى كذا في الوجيز للكردري۔(1/564)