یکطرفہ خلع کی شرعی حیثیت کیاہے ؟ میراسوال یہ ہے مفتی صاحب ! کیا لڑکے کی رضامندی کے بغیر یکطرفہ خلع لڑکی لے سکتی ہے ؟مجھے نہ ہی کورٹ نوٹس ملا ، اور نہ ہی میں کورٹ میں پیش ہوا ، اگر مجھے کورٹ کا نوٹس موصول ہوتا تو میں وہاں جاکر کورٹ کو یہ مؤقف دیتا کہ میں اپنی بیوی کیساتھ رہنا چاہتاہوں ،صلح چاہتاہوں ، مجھے بولے بغیر کیا ڈگری ہوسکتی ہے؟ میں نے اپنے بیوی کو کبھی ایسا نہیں کہا کہ جب تمہارا دل چاہے تم جاکر کورٹ سےڈگری لے لو ،مجھے کوئی اعتراض نہیں، میں تو یہی کہتا ہو ں کہ مجھے تمہارے ساتھ رہنا ہے، اب مجھے یونین کونسل سے نوٹس موصول ہواہے کورٹ کی ڈگری کے بعد ،تو میں یونین کونسل میں پیش ہو ااور وہاں جاکر یہی بیان دے کرآیا ہوں کہ میں بیوی کیساتھ رہناچاہتا ہوں , میں کسی کو اختیار نہیں دے رہا کہ وہ میری رضامندی کے بغیر ڈگری دے دیں , مجھے اس پر فتوی ٰ چاہیئے کہ میری رضامندی کے بغیر کیا خلع ہوسکتی ہے ۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ، جس کیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، جو عموماً یکطرفہ عدالتی خلع میں مفقود ہوتا ہے ، چنانچہ سائل کی بیوی نے اگر واقعۃً سائل کی اجازت و رضامندی کے بغیر عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کی ہے ،تو اس ڈگری کے جاری ہونے کے باوجود شرعاً سائل کی بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوا , بلکہ بدستور برقرار ہے، لہذادونوں بغیر تجدیدِ نکاح کے حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرسکتے ہیں ۔
فی ردالمحتار : (قوله: و شرطه كالطلاق) و هو أهلية الزوج و كون المرأة محلا للطلاق منجزا أو معلقا على الملك . و أما ركنه فهو كما في البدائع إذا كان بعوض , الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ، و لا يستحق العوض بدون القبول ،(3/441)۔
و فی المبسوط : (قال) و الخلع جائز عند السلطان و غيره ؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود ، و هو بمنزلة الطلاق بعوض ، و للزوج ولاية إيقاع الطلاق ، و لها ولاية التزام العوض ، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد . (6/173)۔