نکاح کے لئے مال، علم، عمر، دین اور ذات میں مساوات ضروری ہے، حلال ہے، حرام ہے، اچھا ہے یا کیا ہے؟
مثال کے طور پر اگر میں عالم نہیں ہوں تو کیا میں کسی عالمہ سے شادی کر سکتا ہوں، اگر میں سید نہیں ہوں تو کیا میں کسی سیدہ سے شادی کر سکتا ہوں، اگر میں امیر ہوں تو غریب عورت سے شادی کر سکتا ہوں، اگر میں جوان ہوں تو کیا میں کسی عمر رسیدہ بیوہ سے شادی کر سکتا ہوں، اگر میں مذہبی نہیں ہوں تو کیا میں کسی مذہبی شخص سے شادی کر سکتا ہوں،اگر میں احساس برتری یا احساس کمتری کا شکار نہیں ہوں تو کیا ایسا ہی ہے؟
مساوات کا معیار کیا ہے؟
واضح ہوکہ شریعت نے نکاح کے معاملہ میں کفاءت (ہم پلہ،مساوات) کا اعتبار مرد کی جانب سے کیا ہے کہ مرد مخصوص امور (نسب ،حریت،مال ،پیشہ،دین داری) میں عورت کے ہم پلہ ہو ،عورت کا مرد کے ہم پلہ ہونا ضروری نہیں ،چنانچہ اگر مرد مذکور ہ بالاصفات میں اپنے سے کمتر عورت سے نکاح کرے تو یہ نکاح شرعاً درست اور صحیح ہے ،لیکن اگر مرد مذکور بالا صفات میں عورت سے کمتر ہو تو ایسی صورت میں عورت کے ولی کی اجازت ورضامندی ضروری ہے ،چنانچہ اگر کوئی عورت مذکورہ بالا صفات میں اپنے سے کمتر مرد سے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے تو بعض فقہاء کرام کے نزدیک یہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہ ہوگا ،اس لیے اس معاملہ میں ولی کی اجازت اور رضامندی ضروری ہے ،جبکہ کسی کافر مرد کا مسلمان عورت سے یا مسلمان مرد کا کافر ہ عورت سے نکاح شرعاً درست نہیں اگرچہ اولیاء کی رضامندی سے یہ نکاح کیا جائے ۔
کما فی مبسوط للسرخسی: الکفاءۃ فی النکاح معتبرۃ من حیث النسب ۔۔۔والثانی الکفاءۃ فی الحریۃ ۔۔۔والثالث الکفاءۃ من حیث المال۔۔۔ والرابع الکفاءۃ فی الحرف ۔۔۔والخامس الکفاءۃ فی الحسب ۔۔۔قال واذا تزوجت المرءۃ غیر کفء فرضی بہ احد الاولیاء جاز ذلک ۔۔۔واذا تزوجت المرءۃ رجلاً خیراً منہا فلیس للولی ان یفرق بینھما لان الکفاءۃ غیر مطلوبۃ من جانب النساء اھ (5/22)۔
و فی الھندیۃ : لا يجوز نكاح المجوسيات ولا الوثنيات وسواء في ذلك الحرائر منهن والإماء، كذا في السراج الوهاج ولا يجوز تزوج المسلمة من مشرك ولا كتابي، كذا في السراج الوهاج اھ (1/282)۔