میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں جب بھی غسل کرتا ہوں تو غسل کے دوران قطرے ضرور آتے ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ یہ قطرے غسل کے پانی کے ہوتے ہیں پیشاب کے نہیں ،توکیا اس کے وجہ سے بالٹی کا تمام پانی نجس ہو جاتا ہے اور کپڑوں اور دیوار پر چھینتے پر جاتے ہیں اور بیٹھ کر غسل کرنے سے بھی ان چیزوں سے بچنا مشکل ہے اور یہ وہم نہیں حقیقت ہے ،اس کی وجہ سے کبھی کبھی مایوس ہوجاتا ہو ں اور نماز رہ جاتی ہے نجس پانی لگنے کے خیال میں۔
سائل کے جسم پر اگر کوئی ظاہر ی ناپاکی لگی ہوئی نہ ہو تو غسل کے دوران پانی کی جو چھینٹیں (قطرات ) پانی کی بالٹی یا آس پاس کے کپڑوں اور دیوار وں پر لگتی ہیں ،اس کی وجہ سے بالٹی کا پانی یا کپڑےاور دیوار وغیر ہ ناپاک نہیں ہوتا لہذا ان چھینٹوں کوناپاک سمجھ کر اس کی وجہ سے نماز چھوڑدینا قطعاً درست نہیں، جس سے سائل کو بچنا چاہیئے ،تاہم غسل کے دوران اگر اس بات کا خیال رکھا جائے کہ پانی کی چھینٹیں پانی کی بالٹی میں نہ گریں ،تویہ زیادہ احتیاط اور پاکیزگی پر مبنی عمل ہے ، اس لئے اس کا اہتمام کرنا چاہیئے۔
کما فی الدرالمختار: أو مماثلا كمستعمل فبالأجزاء، فإن المطلق أكثر من النصف جاز التطهير بالكل و إلا لا(1/182)۔
و فیہ ایضاً: (قوله: و هذا) أي ما ذكر من اعتبار الإجزاء في المستعمل يعم الملقى بالبناء للمفعول أي ما كان مستعملا من خارج ثم أخذ و ألقي في الماء المطلق و خلط به و الملاقي أي و الذي لاقى العضو من الماء المطلق القليل بأن انغمس فيه محدث أو أدخل يده الخ اھ(1/182)۔