نکاح

آغاخانی سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
67868
| تاریخ :
2023-09-21
معاملات / احکام نکاح / نکاح

آغاخانی سے نکاح کا حکم

السلام علیکم!
معلوم یہ کرنا ہے کہ آغا خانی یا اسماعیلی خاتون جو اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہے، اس لئے کہ وہ باقاعدگی سے پانچوں وقت کی نماز کبھی کھبی تہجد بھی پڑھتی ہے، روزوں کی بھی پابند ہے، تمام خلفاء راشدین کو مانتی ہے ،لیکن حضرت علی سے زیادہ عقیدت رکھتی ہے، وہ جماعت خانے بھی جاتی ہے، آغا خان کو ایک عام آدمی سمجھتی ہے ،لیکن ان سے رہنمائی کے لئے جماعت خانے جاتی ہے، جیسے مختلف ملک کے لوگ اپنے اپنے بزرگوں سے مشورہ اور ان سے فیض حاصل کرنے کے لئے جاتے ہیں (یہ باتیں اس لئے معلوم ہےکہ لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو(9)سال سے یونیورسٹی اور کچھ عرصے ایک ہی جگہ ملازمت کرتے تھے، اس لئے ایک دوسرے کو جانتے ہیں) ان کا ارادہ یہ بھی ہے کہ اگر رشتہ ہو جائے گا ،تو اس کے نتیجے میں جو اولاد ہوگئی ،سو فیصد اسلامی اصولوں کے مطابق ہو گی، اس کا قرآن بھی تیس پاروں پر مشتمل ہے، یہ بات اس لئے تحریر کی جارہی ہےکہ کچھ حضرات ان کا قرآن 40 پارے بتاتے ہیں.
سوال : کیا اس کو مسلمان تسلیم کرتے ہوئے اس سے شادی ہو سکتی ہے، نہیں تو ہمیں اس کے سامنے کیا شرائط رکھنی ہوں گی، کیا کسی کو مسلمان کرنے کے لئے کسی عالم کے سامنے کلمہ پڑھنا ضروری ہے ،اور کیا دو گواہوں کی موجودگی بھی ضروری ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اسماعیلی فرقہ سے تعلق رکھنے والے اپنے کفریہ عقائد کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہیں، چنانچہ کسی مسلمان کا اسماعیلی خاتون سے نکاح کرنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک اسماعیلی فرقے کے عقائد سے براءت کا اظہار کر کے اسلام قبول نہ کرے، لہذا صورت مسئولہ میں مذکور خاتون اگر اسماعیلی فرقے سے تعلق نہ رکھتی ہو ،یا ان کے کفریہ عقائد سے براءت کا اظہار کر کے تو بہ تائب ہونے کے بعد اسلام قبول کر چکی ہے، تو ایسی صورت میں اس کے ساتھ مسلمان شخص کا نکاح جائز ہوگا، تاہم اگر اس کا تعلق اسماعیلی فرقہ سےبالکلیہ منقطع نہ ہوا ہو، بلکہ وہ راہ نمائی کی غرض سے جماعت خانہ جاتی آتی ہو ،تو ایسی صورت میں شکوک و شبہات اور مواضع تہمت سے بچنے کیلئے ایسی خاتون سے کسی مسلمان کیلئے نکاح نہ کرنا بہتر اور افضل ہے۔
جبکہ کسی غیر مسلم کا اسلام میں داخل ہونے کے لئے کسی عالم دین کے سامنے کلمہ پڑھنا یا اس پر گواہوں کا موجود ہونا شرعاً ضروری نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كماني تنزيل العزيز : ولا تنكوا المشركات حتى يؤمن ولأمة خير من شركة ولو أعجبتكم اھ(البقرة : (221) ۔
وفي بدائع الصنائع : و منها أن لا تكون المرأة مشركة إذا كان الرجل مسلما فلا يجوز للمسلم أن ينکح المشركات الخ( 270/2 ) -
وفيھا أيضاً : ومنها الإسلام في نكاح المسلم والمسلمة فلا يجوز نكاح المؤمنة الكافر اھ ( 253/2 ) ۔
وفى الهندية : ولا يجوز نكاح المسلمة من مشرك ولا کتابی اھ (252/1)۔واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حماد منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 67868کی تصدیق کریں
0     975
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات