میری پیدائشی ناک ٹیڑھی ہے، جسے "کروکڈ نوز " کہتے ہیں، اسکول میں ہی مجھے دوستوں نے بول کر اس بات کا احساس دلایا تھا کہ: میرے اندر کوئی نقص ہے، پھر لوگوں نے بھی بولا کہ: میری ناک ٹیڑھی ہے ، اس بات کی وجہ سے میں شدید ڈپریشن کا شکار تھی، ابھی بھی میں یہی سوچتی رہتی ہوں اور اکثر روتی رہتی ہوں ،جب اپنی تصویر دیکھتی ہوں کہ میری ناک ٹیڑھی نظر آتی ہے ، اور سب جب مجھے دیکھتے ہوں گے ،تو میری ناک ٹیڑھی دکھتی ہو گی انہیں، لیکن مجھے سانس لینے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، تو کیا اس صورتحال میں، میں سرجری کروا کر اپنی ناک سیدھی کروا سکتی ہوں ؟
سائلہ کی ناک اگر اس قدر ٹیڑھی نہ ہو ،جو عام فطری ہیئت سے ہٹ کر بدنما نظر آتی ہو، بلکہ اس میں معمولی ٹیڑھا پن ہو، تو ایسی صورت میں فقط حسن میں اضافے کی غرض سے سرجری کروانے کی اجازت نہ ہو گی، البتہ اگر سائلہ کی ناک اس قدر ٹیڑھی ہو، جو عام فطری خلقت و ہیئت کے خلاف ہو، جس کی وجہ سے وہ بدنما نظر آتی ہو اور عرفا اسے معیوب سمجھا جاتا ہو، تو ایسی صورت میں سائلہ کے لیے ازالہ عیب کی غرض سے ناک کی سرجری کروانے کی شرعاً گنجائش ہے، بشر طیکہ مذکور سرجری میں کسی انسانی عضو کا استعمال نہ ہو۔
كما في تكملة فتح الملهم: والحاصل أن كل ما يفعل من جسم من الزيادة أو نقص من أجل الزينة بما يجعل الزيادة أو النقصان مستمرا مع الجسم وبما يبدو منه أنه كان في أصل الخلقة هكذا فانه تلبيس وتغيير منهي عنه وأما تزینت به المرأة من تحمیر الأیدی أو الشفاه أو العارضیین بما لا یلتبس بأصل الخلقة بإنه لیس داخلا فی النهی عند جمهور العلماء، وأما قطع الإصبع الزائدة ونحوها لیس تغییرا لخلق اللہ وإنه من قبیل إزالة العیب أو مرض ، فأجازه اکثر العلماء خلافا لبعضهم اھ (۴/ ۱۹۵)