میری بہن سُن بول نہیں سکتی،جس لڑکے سے رشتہ ہوا ہے، وہ بھی ایسا ہی ہے ۔لڑکا جوبلی انشورنس کمپنی میں ملازمت کرتا ہے۔لڑکے کے بڑے بھائی کسی ٹیکسٹائل کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں ۔لڑکے کے والد نہیں ہیں۔(ہماری معلومات کے مطابق ذریعہ معاش یہی ہے)سوال یہ ہے کہ لڑکے کی کمائی جائز ہے ؟وہاں سے آئے ہوئے سامان اور کھانے کی کیا حیثیت ہے ؟کام ڈیٹا(data)کاغذات سے کمپیوٹر پر اتارنا ہے،تنخواہ 30،000 ہے۔
واضح ہو کہ مُروَّجہ تمام انشورنس کمپنیوں کے معاملات شرعاً سود، قمار (جوّا) اور غرر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہیں۔ اسی بنا پر ایسی انشورنس کمپنیوں میں ایسی ملازمت اختیار کرنا، کہ جس کا تعلق سودی لکھت پڑھت سے ہوخواہ وہ دفتری ہو یا تکنیکی (مثلاً ڈیٹا انٹری وغیرہ)، گناہ کے کام پر اعانت کے زمرے میں آتا ہے، جو شرعاً جائز نہیں۔ لہٰذا مذکورہ انشورنس کمپنی کی ملازمت سے حاصل ہونے والی تنخواہ بھی حلال نہیں ہے، اور اس آمدنی سے خریدےگئے سامان اور کھانے کابھی یہی حکم ہے۔
تاہم اس ملازمت کی وجہ سے اس شخص کے ساتھ بہن کا نکاح کرنا ممنوع یا ناجائز نہیں ، اس لئے اگر سائل اپنی بہن کا رشتہ اس انشورنس کمپنی کے ملازم سے کرواناچاہے تو اس کی شرعاگنجائش ہے، البتہ اگر حکمت و بصیرت کے ساتھ نکاح سے پہلےہی اس سے غیرشرعی ملازمت کو چھوڑ کر کسی جائز روزگار (جیسے تجارت، حلال نوعیت کی ملازمت، یا کسی ایسے ادارے میں کام جو شرعی مفاسد سے پاک ہو) اختیار کرنے کا پختہ عہدکروالیاجائے تویہ زیادہ مناسب ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: ولا تعاونواعلی الاثم والعدوان واتقوا اللہ ان اللہ شدید العقاب (سورۃ المائدہ، آیت نمبر، 2)۔
وفی صحیح مسلم: لعن رسول اللہ ﷺ اکل الربٰو وموکلہ وکاتبہ وشاہدیہ وقال ہم سواء۔ الخ (ج: 2، ص: 28،)۔
وفی تکملۃ فتح الملھم: (قولہ وکاتبہ) لأن کتابۃ الربٰو اعانۃ علیہ ومن ہنا ظہر أن التوظف فی البنوک الربویۃ لا یجوز، فان کان عمل الموظف فی البنک ما یعین علی الربٰو کالکتابۃ أو الحساب فذالک حرام بوجہین، الاول اعانۃ علی المعصیۃ والثانی اخذ الاجرۃ من مال الحرام۔ الخ (ج: 1، ص: 19،)۔
وفی فقہ البیوع : السابع: ان یؤجر المرأ نفسه للبنک بان یقبل فیه وظیفۃ فإن كانت الوظيفة تتضمن مباشرة العمليات الربوية، أو العمليات المحرمة الأخرى، فقبول هذه الوظيفة حرام، وذلك مثل: التعاقد بالربا أخذاً أو عطاء، أو حسم الكمبيالات، أو كتابة هذه العقود، أو التوقيع عليھا، أو تقاضي الفوائد الربوية، أو دفعھا، أو قيدها في الحساب بقصد المحافظة عليھا، أو إدارة البنك، أو إدارة فرع من فروعه، فإنّ الإدارة مسؤولة عن جميع نشاطات البنك التي غالبھا حرام.و من کان مؤظفا فی البنک بھذا لشکل ، فإن راتبہ الذی یأخذہ من البنک کلہ من الأکساب المحرمۃ۔ اھ (المبحث العاشر فی احکام المال الحرام ، ج: 2 ، ص: 1064 ، ط: معارف القرآن)۔