ترجمہ: مجھے خلع کے حوالے سے تفصیلات چاہیے ،میری بیوی نے کیس کرایا ہے اور بہت سے سنگین جھوٹے الزامات لگائے ہے اور میں اپنی بیوی بچوں کو ساتھ رکھنا چاہتا ہوں ، جج اگر خلع کی ڈگری جاری کردے تو کیا ہوگا اور مجھے کیا کرنا چاہیےاور بچوں کے اخراجات کا کیا ہوگا۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، جو عموما یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگری میں مفقود ہوتا ہے، چنانچہ اگر سائل کی بیوی سائل کی اجازت و ضامندی کے بغیر عدالت سے یک طرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرے،تو یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری ہونے کے باوجودشرعاًسائل کا نکاح ختم نہیں ہوگا بلکہ بدستور برقراررہے گا ۔
کمافى احكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا انھمالايجوز خلعھما الأبرضى الزوجين فقال اصحابنالیس للحكمين ان يفرفا الأبرضى الزوجين لان الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وانما الحكمان وكيلان لھما آحدهما وكيل المراة والأخر وكيل الزوج في الخلع إلى قوله وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاء يخرجا المال عن ملكها۔(2/239)۔
كما في رد المحتار: (قوله: وشرطه كالطلاق) وهو أهلية الزوج وكون المرأة محلا للطلاق منجزاء أو معلقا على الملك وأما ركنه فهو كما في البدائع إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول(3/441)
وفي المبسوط للسرخسي: (قال) والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض وللزوج ولاية إيقاع الطلاق - (6/173)۔