کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا نکاح ایک حافظہ لڑکی کےساتھ ہونے والا ہے، لیکن میں خود حافظ نہیں ہوں اور مولوی بھی نہیں ہوں، گارمنٹس فیکٹری میں کام کرتا ہوں، دوستوں نے کہا تم اس لڑکی سے نکاح نہیں کرنا، اچھا نہیں ہوگا، کیا میں اس لڑکی سے نکاح کر سکتا ہوں؟
صورتِ مسئولہ میں فریقین اور ان کے اولیاء اگر اس عقدِ نکاح پر راضی ہوں تو سائل کے لۓ اس لڑکی کے ساتھ عقدِ نکاح کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے، تاہم مذکور لوگوں کے منع کرنے کی اگر وجہ بیان کر دی جائے تو اس پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
في الفتاوى الهندية: أن المرأة إذا زوجت نفسها من رجل ولم تشترط الكفاءة ولم تعلم أنه كفء أو غير كفء ثم علمت أنه غير كفء لا خيار لها ولكن للأولياء الخيار، وإن كان الأولياء هم الذين باشروا عقد النكاح برضاها ولم يعلموا أنه كفء أو غير كفء فلا خيار لواحد منهما (1/ 293)۔