میں یو کے میں رہتا ہوں، والدین اور بہن بھائی پاکستان میں رہتے ہیں، میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ والدین کو مالی لحاظ سے خوش رکھوں، ان کی ہر جائز ضرورت پوری کردیتا ہوں، اضافی مالی مدد بھی کرتا ہوں، انہیں کبھی کسی چیز کے لئے انکار نہیں کیا، اس لئے شاید اب انہیں لگنے لگا ہے کہ میں بہت مالدار ہوں، اور وہ مجھ سے ہر چھوٹی بڑی چیز کی رقم کا مطالبہ کرتے ہیں، میرے دو بھائی اور بھی ہیں، سب سے بڑے بھائی پاکستان میں رہتے ہیں اور اچھے خاصے سیٹھ ہیں، مگر وہ ہمیشہ کہتا ہیں کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے، اسلئے والدین مجھے کہتے ہیں رقم کے لئے، جیسا کہ گھر میں انٹر نیٹ لگواناہے رقم دو، گھومنے بڑے شہر جانا ہے رینٹ کی گاڑی کے لئے رقم دو، ہوٹل پر کھانا کھانے جانا ہے رقم دو،وغیرہ وغٰیرہ، میرا سوال یہ ہے کہ ناجائز مطالبے پر کیا میں انہیں احسن طریقے سے منع کرسکتا ہوں، اور یہ کہہ سکتاہوں کہ آپ دوسرے بیٹے سے لے لیں؟
جس طرح بچپن میں والدین اپنی ضروریات پر اولاد کی ضروریات کو مقدم رکھ کر ان کی ہر جائز خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اسی طرح جب اولاد کو اپنے والدین کی خدمت کا موقع مل جائے تو انہیں اللہ رب العزت کی طرف سے سعادت سمجھ کر حسب وسعت ان کی تمام ضروریات وخواہشات کو پورا کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہیئے، جہاں تک والدین کا دیگر اولاد کے مقابلے میں کسی ایک بیٹے سے اپنی ضرورت بیان کرکے اسے پورا کرنے کے مطالبے کا تعلق ہے، تو یہ صرف اس بیٹے کو مالدار سمجھ کر نہیں کیا جاتا، بلکہ انہیں اس بیٹے پر اعتماد بھی ہوتا ہے کہ وہ اس مطالبے کو رد نہیں کریگا، اس لئے سائل کا اپنے بڑے بھائی پر نظر کرکے والدین کو انکی ضروریات پورا کرنے کے لئے انکار کرنا درست نہیں، بلکہ حتی الامکان ان کی جائز خواہشات اور ضروریات کی تکمیل کو سعادت سمجھ کر اس کا اہتمام کرنا چاہیئے، ان شاء اللہ العزیز اس کی وجہ سے سائل کے رزق میں مزید وسعت اور فراخی ہوگی۔
ہاں اگر والدین کا مطالبہ غیر ضروری ہو یا سائل کے پاس اس کی وسعت نہ ہوتو مناسب طریقہ سے والدین کو منع کرنے میں بھی حرج نہیں۔
کما فی مرقاۃ المفاتیح: وعنه قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم: " «رغم أنفه، رغم أنفه، رغم أنفه ". قيل: من يا رسول الله؟ قال: " من أدرك والديه عند الكبر، أحدهما أو كلاهما ثم لم يدخل الجنة» ". رواه مسلم (ج7 صـ3079 کتاب الآداب باب البر والصلۃ ط: دار الفکر بیروت)۔
وفی کنز العمال: باب في بر الوالدين والأولاد والبنات: بر الوالدين "الصديق" عن قيس بن أبي حازم: جاء رجل إلى أبي بكر الصديق فقال: إن أبي يريد أن يأخذ مالي كله لحاجة! فقال لأبيه: إنما لك من ماله ما يكفيك، فقال: يا خليفة رسول الله! أليس قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أنت ومالك لأبيك؟ فقال: نعم، وإنما يعني بذلك النفقة، ارض بما رضي الله عز وجل. "طس، ق" الخ (ج16 صـ577 ط: قدیمی)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: (وإضاعة المال) في الفائق: هو إنفاقه في غير طاعة الله والسرف.قال الطيبي، قيل: والتقسيم الحاصر فيه الحاوي بجميع أقسامه أن تقول: إن الذي يصرف إليه المال إما أن يكون واجبا كالنفقة والزكاة ونحوهما، فهذا لا ضياع فيه، وهكذا إن كان مندوبا إليه، وإما أن يكون مباحا ولا إشكال إلا في هذا القسم، إذ كثير من الأمور يعده بعض الناس من المباحات، وعند التحقيق ليس كذلك كتشييد الأبنية وتزيينها والإسراف في النفقة، والتوسع في لبس الثياب الناعمة والأطعمة الشهية اللذيذة الخ (ج9 صـ137 کتاب الآداب باب البر والصلۃ ط: مکتبۃ الرشید سرکی روڈ)۔
وفی رد المحتار: تحت (قوله: على خلاف مقتضى الشرع أو العقل) كالتبذير والإسراف في النفقة وأن يتصرف تصرفات لا لغرض أو لغرض لا يعده العقلاء من أهل الديانة غرضا كدفع المال إلى المغنين واللعابين وشراء الحمامة الطيارة بثمن غال والغبن في التجارات من غير محمدة. وأصل المسامحات في التصرفات والبر والإحسان مشروع إلا أن الإسراف حرام كالإسراف في الطعام والشراب قال تعالى {إذا أنفقوا لم يسرفوا ولم يقتروا} [الفرقان: 67] كفاية الخ (ج6 صـ147 کتاب الحجر ط: سعید)۔