معزز مفتی صاحب السلام علیکم !
مفتی صاحب میں نے ایک مسئلہ پوچھنا تھا کہ میرا نکاح ہونے کے بعد رخصتی نہیں ہوئی , لیکن میری بڑی سالی اور سسر کی ناراضگی کی وجہ سے بات طلاق تک پہنچ گئی، جبکہ میں نے اور میری فیملی نے صلح کرنے کی بہت کوشش کی لیکن میرے سسرال والے اپنی ضد پر قائم رہے اور بالآخر میرے سسر اور بڑی سالی نے میری بیوی کے دل میں میرے خلاف زہر بھر کر نفرت کرنے پر مجبور کردیا , اور میرے سسر نے اپنی بیٹی کو عدالت سے خلع لینے کی ہدایت کردی ،جس پر میری بیوی نے عدالت میں خلع کا کیس دائر کردیا جس میں یہ جھوٹ لکھ دیا کہ میں اپنی بیوی اور اسکے والدین کو گالیاں دیتا تھا اور گواہ کے طور پر میرا سسر عدالت میں پیش ہوگیا اور جھوٹی گواہی بھی دے دی، جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ تھا ہی نہیں, عدالت نے میری بیوی کی بات مانتے ہوئے یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری کردی, لہٰذا مفتی صاحب مہربانی فرما کر میری رہنمائی فرمادیں کہ مندرجہ بالا حقائق کے مطابق عدالت کی ڈگری سے میرا نکاح میری بیوی سے شرعی طور پر ختم ہوگیا ہے ؟ اور کیا میری بیوی اب کسی اور سے شادی کر سکتی ہے؟ کیوں کہ میں نے نہ عدالت میں خلع کے پیپر پر دستخط کیے اور نہ اپنی بیوی کو طلاق دی۔
واضح ہوکہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے جو عموماً یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگری میں مفقود ہوتاہے ،چنانچہ اگر سائل یا اس کے وکیل نے عدالت میں حاضر ہوکر خلع کے پیپرز پر دستخط نہ کیے ہو ں ،بلکہ عدالت نے لڑکی کے بیان پر یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری کردی ہو(جیسا کہ سوال میں مذکور ہے)تو یہ خلع شرعاً معتبر نہیں ، اور اس سے سائل کا نکاح ختم نہیں ہوا ،بلکہ بدستور برقرار ہے،لہٰذا اس یکطرفہ خلع کی ڈگری کو بنیاد بنا کر سائل کی بیوی کیلئے دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً جائز نہیں ،بلکہ گناہِ کبیرہ ہے جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے ۔
فی أحكام القرآن للجصاص : فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا أن يرضى الزوج(الی قولہ)فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين , لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف یملکہ الحکمان۔اھ(2/ 239)۔
و فی الرد : (قوله : و شرطه كالطلاق) و هو أهلية الزوج و كون المرأة محلا للطلاق منجزا أو معلقا على الملك . و أما ركنه فهو كما في البدائعإذا كان بعوض , الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض ، فلا تقع الفرقة ، و لا يستحق العوض بدون القبول ،(3/441)۔
و فی المبسوط للسرخسي : و الخلع جائز عند السلطان و غيره ؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود ، و هو بمنزلة الطلاق (6/ 173)۔