کاسمیٹک سرجری ( جسم کی بناوٹ کو خوبصورت بنانا) کے بارے میں مفتیانِ کرام کا کیا فتوی ہے؟
اگر کسی چوٹ لگنے کی وجہ سے یا بڑھاپے کی وجہ سے یا غیر معتدل غذا کھانے کے سبب جسم کی بناوٹ خراب ہو جائے تو اس کو سدھارنے کے لئے کی گئی سرجری جائز ہے؟ بالخصوص اس میں غرض علاج کی بھی ہو نہ کہ صرف جسمانی تزئین مراد ہو ، اسی طرح ایسے اعضاء جو کسی شخص کو اس کی جنسیت کے خلاف ظاہر کرتے ہوں جیسے مردوں میں چھاتی بڑھ کر نسوانی شکل اختیار کرجائے تو اس کو سرجری کے ذریعے واپس مردانہ چھاتی کے روپ میں لانا، یا خواتین کے چہرے پر داڑھی نکل آئے تو اس کو لیزر سرجری سے ختم کرنا وغیرہ۔
واضح ہو کہ بلاوجہِ شرعی و عذرِ شدید کے بغیر , محض حسن میں اضافہ کی غرض سے سرجری کروانا شرعاً ناجائز اور حرام عمل ہے جس سے اجتناب لازم ہے ،البتہ اگر کسی چوٹ لگنے کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سےجسم کی بناوٹ اس طرح خراب ہوجائے جو معیوب ہو ،تو ایسی صورت میں اعضاء کی بناوٹ درست کرنے کی غرض سے سرجری کروانے کی گنجائش ہے ، لہذا کسی شخص کی خلقتاً یا مرض کی وجہ سے اگر چھاتی اس قدر بڑھ گئی ہو جو عیب سمجھی جاتی ہو تو ایسی صورت میں سرجری کے ذریعے اس کو مردانہ روپ میں لانے کی گنجائش ہے ، اسی طرح خواتین کے چہرے پر اگر داڑھی آجائے تو ازالۂ عیب کیلئے لیزر سرجری کے ذریعےاس کو ختم کرنے کی گنجائش ہے ۔
فی تکملۃ فتح الملھم : و الحاصل ان کل مایفعل فی الجسم من زیادۃ او نقص من اجل الزینۃ بما یجعل الزیادۃ او النقصان مستمراً مع الجسم و بما یبدو منہ انہ کان فی اصل الخلقۃ ھکذا فانہ تلبیس و تغییر منھی عنہ اھ (4/195)-
و فی مرقاۃ المفاتیح : فیہ اشارۃ الی ان الحرام ھو المفعول لطلب الحسن اما لو احتاجت الیہ لعلاج او عیب فی السن و نحوہ فلا باس بہ اھ(8/281)-
و فی الفتاوى الهندية : إذا أراد الرجل أن يقطع إصبعا زائدة أو شيئا آخر قال نصير - رحمه الله تعالى - إن كان الغالب على من قطع مثل ذلك الهلاك فإنه لا يفعل و إن كان الغالب هو النجاة فهو في سعة من ذلك اھ(5/360)-
و فی الشامیۃ : و في تبيين المحارم إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب اهـ(6/373)-