شیر خوار بچے اور بچی کا نکاح کر دیا گیا تھا، بڑے ہو کر ان کی اولاد بھی ہوئی، پھر خیال ہوا کہ یہ نکاح تو شیر خواری کی حالت میں ہوا تو اس بارے میں کیا حکم ہے؟
شیرخوار بچوں کا نکاح ان کے باپ ، دادا میں سے کوئی کروائے تو وہ بلاشبہ جائز ،بلکہ لازم ہو جاتا ہے اور اس میں بالغ ہونے کے بعد بچوں کو خیارِ بلوغ بھی حاصل نہیں ہوتا۔
فی الدر المختار: (وللولي) الآتي بيانه (إنكاح الصغير والصغيرة) جبرا (ولو ثيبا) كمعتوه ومجنون شهرا (ولزم النكاح) (إلی قوله) (إن كان الولي) المزوج بنفسه بغبن (أبا أو جدا) اھ(3/ 65)۔