نکاح

رشتہ کے وقت بیماری وغیرہ ظاہر کرنا ضروری ہے

فتوی نمبر :
66000
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

رشتہ کے وقت بیماری وغیرہ ظاہر کرنا ضروری ہے

ترجمہ :السلام علیکم میں نے سرجری کی مثلاً(ORCHIECTOMY)جس میں خصیہ ٹیومر کی وجہ سے میرا ایک خصیہ ہٹا دیا گیا ڈاکٹر نے مز ید علاج تجویز نہیں کیا،بہر حال میڈیکل ٹیسٹ ہوگا،یورولوجسٹ کے مطابق ایک خصیہ ازدواجی زندگی کے لئے کافی ہے اور توالدی صحت (انشاءاللہ)متاثر نہیں ہوگی،فی الحال میری فیملی میرے لئے رشتہ تلاش کررہے ہیں،کیا ان کو مذکور آپریشن کے بارے میں بتانا ضروری ہے؟کہ بہت شرمندگی ہوگی میں نہیں بتانا چاہتا،شریعت کا کیا حکم ہے،جزاک اللہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جو بیماریاں ازدواجی رشتہ میں رکاوٹ بنیں یا ایسی بڑی بیماریاں جن کا علاج بظاہر آسان نہ ہو تو نکاح سے قبل ایسی بیماریاں چھپانا دھوکہ دہی ہے،جوکہ ناجائز ہے،بلکہ نکاح اور منگنی سے قبل اس بیماری کا اظہار کر دینا چاہئے ،تاکہ بعد میں کسی قسم کی بدمز گی پیدا نہ ہو،البتہ ایسی چھوٹی موٹی بیماریاں جو ازدواجی رشتے میں رکاوٹ نہ بنیں اور ان کا علاج بھی بظاہر آسان ہو تو رشتہ طے کرنے سے پہلے ا یسی بیماریوں کا ذکر کرنا ضروری نہیں ہے،لہذا صورت مسئولہ میں اگر مذکور آپریشن کے باوجود ڈاکٹرز حضرات کی رائے کے مطابق سائل کے توالد و تناسل کا نظام واقعۃً درست ہو اور اس سے اولاد کے پیدا ہونے میں کسی قسم کا کوئی مسئلہ بھی نہ ہو تو رشتہ سے قبل مذکور آپریشن کا ذکر کرنا شرعاً لازم نہیں بلکہ اس کا تذکرہ کیے بغیر بھی رشتہ کی بات طے کی جاسکتی ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی احیاء العلوم للغزالی:والغرور یقع فی الجمال والخلق جمیعاً فیستحب ازالۃ الغرور فی الجمال بالنظر وفی الخلق بالوصف والاستیصاف فینبغی ان یقدم ذلک علی النکاح ولایستوصف فی اخلاقھا وجمالھا الا من ھو بصیرصادق خبیر بالظاھر والباطن ولا یمیل الیھا فیفرط فی الثناء ولا یحسدھا فیقصر فالطباع مائلۃ فی مبادی النکاح ووصف المنکوحات الی الافراط والتفریط وقل من یصدق فیہ ویقتصد بل الخداع والاغراء اغلب والاحتیاط فیہ مھم لمن یخشی علی نفسہ التشوف الی غیر زوجتہ اھ(2/39)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیمان عظیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 66000کی تصدیق کریں
0     664
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات