نکاح

سوتیلی ماں کی بہن سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
65535
| تاریخ :
2023-06-20
معاملات / احکام نکاح / نکاح

سوتیلی ماں کی بہن سے نکاح کا حکم

کیا پہلی بیوی کے لڑکے کا دوسری بیوی کے بہن (یعنی سوتیلی خالہ) سے نکاح جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوتیلی خالہ (یعنی اپنی ماں کے باپ کے علاوہ مرد سے باپ کی دوسری منکوحہ کی بہن) کے ساتھ چونکہ کوئی نسبی تعلق نہیں ہے اس لۓ اگر ان دونوں کے نکاح کرنے سے کوئی اور شرعی مانع نہ ہو تومحض سوتیلی خالہ ہونا صحتِ نکاح سے مانع نہیں، بلکہ ان دونوں کا نکاح بلاشبہ جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الفتاوى الهندية:لا بأس بأن يتزوج الرجل امرأة ويتزوج ابنه ابنتها أو أمها، كذا في محيط السرخسي. (1 / 277)۔
قال ابن عابدین عن الخیر الرملي:ولا تحرم أم زوجة الأب ولا بنتھا فأخت زوجة الأب أولى بأن لا تحرم (شامی 6:105، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 65535کی تصدیق کریں
0     1286
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات