السلام علیکم! میں حکومتی سکیم کے تحت مکہ میں حج کے لیے ہوں اور میرے پاس 48 دن کا پیکج ہے، کیا مجھے 10 ذی الحجہ کو گھر پر قربانی کرنی پڑے گی ؟ یا میں اس دن رمی کے بعد حرم میں صرف دمِ شکر کروں گا؟
سائل اگر ایامِ حج سے قبل، یعنی آٹھ ذی الحجہ سے پہلے پہلے مکہ مکرمہ میں پندرہ دن ٹھہر چکا ہو اور صاحب نصاب بھی ہو تو اس پر حج کی قربانی کے علاوہ عید الأضحی کی قربانی بھی لازم ہو گی ، البتہ عید الاضحی کی قربانی کے بارےمیں اسے اختیار حاصل ہے ، خواہ اپنے ملک میں کرے یا منیٰ میں ۔
کما فی الدر المختار : (فيقصر إن نوى) الإقامة (في أقل منه) أي في نصف شهر (أو) نوى (فيه لكن في غير صالح) أو كنحو جزيرة أو نوى فيه لكن (بموضعين مستقلين كمكة ومنى) فلو دخل الحاج مكة أيام العشر لم تصح نيته لأنه يخرج إلى منى وعرفة فصار كنية الإقامة في غير موضعها وبعد عوده من منى تصح كما لو نوى مبيته بأحدهما أو كان أحدهما تبعا للآخر بحيث تجب الجمعة على ساكنه للاتحاد حكما اھ (2 /125)۔