نکاح

غیر مسلم لڑکی سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
62770
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

غیر مسلم لڑکی سے نکاح کا حکم

میں ایک ایسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں جس سے میں پیار کرتا ہوں لیکن وہ مسلمان نہیں ہے، کیا یہ گناہ ہے ؟ اور یا اس کا مسلمان ہونا ضروری ہے؟ کیا میری مولوی کے بغیر شادی ہو سکتی ہے ؟ اور خود ہی آنلائن خطبہ پڑھ سکتا ہوں؟ اور کیا مجھے گواہوں کی ضرورت ہے؟ کیونکہ اس کے خاندان والے نہیں مانتے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور لڑکی اگر اہل کتاب میں سے نہ ہو، بلکہ دہریہ، ہندو، مشرک وغیرہ ہو تو جب تک وہ مسلمان نہیں ہو جاتی تب تک سائل کے لئے اس سے نکاح کرناشرعاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر وہ واقعۃً اہل کتاب میں سے ہو صرف نام کی کتابیہ نہ ہو تو اس سے اگرچہ نکاح کرنے کی بکراہت گنجائش ہے، لیکن چونکہ اس سے آنے والی نسل کے ایمان و اخلاق کے خراب ہونے کا شدید اندیشہ ہے، لہذا اس سے بھی احتراز بہتر و افضل ہے۔
تاہم نکاح سے قبل سائل کا مذکور لڑکی سے بات چیت کرنا، ملنایا تنہائی اختیارکرنا تمام امور شرعاً نا جائز و حرام اور گناہِ کبیرہ ہیں جس سے سائل کو احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالیٰ: {وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ} [البقرة: 221]
وفی الدر المختار: (و) حرم نكاح (الوثنية) بالإجماع (وصح نكاح كتابية) ، وإن كره تنزيها (مؤمنة بنبي) مرسل (مقرة بكتاب) منزل، وإن اعتقدوا المسيح إلها، وكذا حل ذبيحتهم على المذهب بحر. وفي النهر مناكحة المعتزلة لأنا لا نكفر أحدا من أهل القبلة إن وقع إلزاما في المباحث.(لا) يصح نكاح (عابدة كوكب لا كتاب لها) ولا وطؤها بملك يمين (والمجوسية والوثنية)۔اھ (3/45)
وفیه ایضاً: ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال كمخيرة، وأن لا يخالف الإيجاب القبول كقبلت النكاح لا المهر۔اھ (3/14)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 62770کی تصدیق کریں
0     513
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات