ایک بیوی لڑائی کرتے ہوئے شوہر سے خلع کا مطالبہ کرتی ہے , شوہر غصہ میں کہتا ہے لاؤ میں دستخط کر دیتا ہوں ،عورت خالی صفحہ پر دستخط کروا لیتی ہے ۔ اس پر کیا حکمِ شرعی ہوگا ؟ جزاک اللہ خیراً
مسئولہ صورت میں اگر میاں بیوی کے درمیان زبانی خلع کا معاملہ طے نہ پایا ہو تو محض خالی صفحہ پر دستخط کرنے سے خلع واقع نہیں ہوا،لہذا دونوں کا نکاح بدستور برقرار ہے ۔
کمافی ردالمحتار: وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول اھ(3/441)-
وفیه ایضاً: فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا اھ(3/236)۔