آج محبت میں پڑنا بہت آسان اور گناہ ہے، اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے، مجھے ایک لڑکا پسند ہے ،وہ بھی مجھے پسند کرتا ہے، لیکن ہم نکاح کے بغیر جڑے رہنا نہیں چاہتے ، میں اپنی فیملی میں سب سے بڑی ہوں اور وہ سب سے چھوٹا ہے ، اس کی فیملی اس کی بہن بھائیوں کی شادی سے پہلے اس کی شادی پر غور نہیں کرے گی ، کیا وہ اپنی بہنوں کی شادی سے پہلے مجھ سے شادی کر سکتا ہے، کیا لڑکیوں کو پہلے شادی کرنا لازم ہے اور لڑکوں کو انتظار کرنا چاہیے ، جب تک کہ تمام بہنوں کی شادی نہیں ہو جاتی ، ہم دونوں روزانہ ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں، لیکن ہم شادی کرنے سے پہلے بات کرنے سے ڈرتے ہیں۔ برائے کرم ہماری رہنمائی کریں، اس کی بہن کی شادی سے پہلے اس کی شادی کیلیے اس کے گھر والوں کو کیسے راضی کیا جائے؟
واضح ہو کہ اجنبی لڑکے لڑکی کا آپس میں بے تکلفی اور میل جول رکھنا شرعا ناجائز و حرام ہے، اس لیے سائلہ اور اس لڑکے پر لازم ہے کہ آپس کے رابطے فوری طور پر ختم کریں اور جب تک باقاعدہ نکاح نہیں ہوتا، اس وقت تک رابطہ اور تعلق نہ رکھیں۔ جبکہ لڑکوں سے پہلے لڑکیوں کی شادی کرنا کوئی ضروری نہیں، لہذا سائلہ اگر مذکور لڑکے کے ساتھ نکاح کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ کسی طرح مناسب انداز میں اپنے اولیاء اور بڑوں کے ذریعے لڑکے کے خاندان والوں کو نکاح کرنے پر آمادہ کریں۔
ففي صحيح البخاري: قال أبو هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم: «إن الله كتب على ابن آدم حظه من الزنا، أدرك ذلك لا محالة، فزنا العين النظر، وزنا اللسان المنطق، والنفس تمنى وتشتهي، والفرج يصدق ذلك كله ويكذبه» اھ (8/ 54)
و في مرقاة المفاتيح: وعن أبي سعيد وابن عباس - رضي الله عنه - ما قالا: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - «من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما فإنما إثمه على أبيه» . (5/ 2064)
کما في الدر المختار: ولا يكلم الأجنبية إلا عجوزا عطست أو سلمت فيشمتها لا يرد السلام عليها وإلا لا انتهى (6/ 369) واللہ اعلم بالصواب