کیا سیدہ لڑکی کا غیر سید لڑکے سے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح منعقد ہو جاتا ہے یا نہیں؟ اور اگر اس طرح نکاح کرنے کے بعد طلاق دے دی جائے تو کیا حکم ہو گا ؟
واضح ہو کہ غیر سید لڑکا، سیدہ لڑکی کا کفؤ نہیں ، لہذا اگر سیدہ لڑکی ولی کی اجازت کے بغیر کسی غیر سید لڑکے سے نکاح کرلے تو مفتی بہ قول کے مطابق اس طرح نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہو گا ، لہذا اس نکاح کے بعد دی گئی طلاقیں بھی شرعا واقع نہ ہوں گی۔
ففي الدر المختار: (وتعتبر) الكفاءة للزوم النكاح خلافا لمالك (نسبا فقريش) بعضهم (أكفاء) بعض (و) بقية (العرب) بعضهم (أكفاء) بعض اھ (3/ 86)
وفيه ايضاً: (وله) أي للولي (إذا كان عصبة) ولو غير محرم كابن عم في الأصح خانية، وخرج ذوو الأرحام والأم والقاضي (الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح (ما لم) يسكت حتى (تلد منه) لئلا يضيع الولد وينبغي إلحاق الحبل الظاهر به (ويفتى) في غير الكفء بعدم جوازه أصلا وهو المختار للفتوى اھ (3/ 56)