نکاح

عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری لی ہوئی لڑکی سے نکاح کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
62354
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری لی ہوئی لڑکی سے نکاح کرنے کا حکم

میرا رشتہ ایک ایسی لڑکی سے ہونے جا رہا ہے جس کا پہلے شرعی نکاح اسکے باپ نے کروا دیا تھا، ابھی رخصتی بھی نہیں ہوئی اور حق مہربھی ادا نہیں ہوا تھا، بعد میں کسی وجہ سے انہوں نے وکیل کے ذریعے عدالت سے رجوع کیا، عدالت نے لڑکے کو مختلف تاریخوں میں نوٹیفکیشن جاری کئے، لیکن وہ حاضر نہیں ہوا، البتہ ان کے علم میں ضرورتھا، عدالت نے مختلف نوٹیفکیشن جاری کرنےکے بعد خلع کا پیپر جاری کر دیا،تو کیا اب خلع ہوگیا؟ میں اب نکاح کر سکتا ہوں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے،جس کی صحت کیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، جوعموماً یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگری میں مفقود ہوتا ہے ، چنانچہ صورت مسئولہ میں اگر شوہر یا اس کے مقرر کردہ وکیل کی اجازت اور رضامندی کے بغیر مذکور لڑکی نے عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کر لی ہو، تو اس ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجو د شر عادونوں کا نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ بدستور بر قرار ہے ، اس یکطرفہ خلع کی ڈگری کو بنیاد بنا کر مذکور لڑکی کا کسی اور جگہ نکاح کرناشر عا جائز نہیں، بلکہ اپنے شوہر کو کسی طرح طلاق یا خلع کیلئے آمادہ کرے ، اس سے خلاصی حاصل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنا جائز اور درست ہو گا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في أحكام القرآن للجصاص ط العلمية : فقال أصحابنا: ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين; لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان اھ (2/ 239)
وفی المبسوط للسرخسی: والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق اھ (6/ 137)
وفی الدرالمختار: وتعلق حق الغير بنكاح أو عدة اھ(3 /28)
وفی ردالمحتار: أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا اھ (3 /132)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 62354کی تصدیق کریں
0     521
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات