احکام حج

حج و عمرہ کرنے والوں سے ملاقات کرنے اور انھیں مبارک باد دینے کا حکم

فتوی نمبر :
60988
| تاریخ :
2022-12-04
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

حج و عمرہ کرنے والوں سے ملاقات کرنے اور انھیں مبارک باد دینے کا حکم

حج و عمرہ پر جانے والوں سے ملنے کے لیے جانا کیسا ہے ؟ اور ان کی واپسی پر ان سے ملنے کے لیے جانا اور ان کو مبارکباد پیش کرناجائز ہے یا ناجائز؟ اس کے بارے ر اہ نمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ حج کر کے آنے والے حضرات سے ملنے اور ان سے دعا کرانے کی احادیث مبارکہ میں ترغیب آئی ہے ، چنانچہ ایک حدیث مبارک میں آتا ہے کہ ،جب تم حج سے واپس آنے والوں سے ملو،تو ان کے گھر میں جانے سے قبل اُن سے مصافحہ کر کے اُن سے دعا کی درخواست کرو، اس لیے کہ وہ بخشا گیا ہے ، اور محدّ ثینِ کرام نے عمرہ ، جہاد اور علم حاصل کر کے واپس آنے والوں کو بھی اس میں داخل کیا ہے ، لہذا اس غرض سے حج و عمرہ سے واپس آنے والوں سے ملنے کے لیے جانا اور ان کو مبارک باد دینا جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مشکوٰ ۃ الصابیح : وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «الْحَاجُّ وَالْعُمَّارُ وَفْدُ اللَّهِ إِنْ دَعَوْهُ أجابَهمْ وإِنِ استَغفروهُ غَفرَ لهمْ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه اھ (2/ 7729)۔
و فی مرقاۃ المفاتیح : (وعن ابن عمر قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إذا لقيت الحاج) أي الفارغ من الحج، وفی معناه المعتمر والزائر والغازي وطالب العلم، (فسلم عليه) أي مبادرة إليه، (وصافحه) أي تواضعا إليه، (ومره) أمر من أمر وحذف همزته تخفی فا، أي التمس منه، (أن يستغفر لك) وفیه مبالغة عظيمة فی حقه، حيث ترجى مغفرة غيره باستغفاره، (قبل أن يدخل بيته) ويشتغل بخويصة نفسه ويتلوث بموجبات غفلته، (فإنه مغفور له) ومن دعا له مغفور له غفر له اھ (5 /1755)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مغفوراللہ حکیم رشیدی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 60988کی تصدیق کریں
2     4908
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات