ایک لڑکی کو طلاق ہوئی بتاریخِ مورخہ 2021۔10۔26کو،جبکہ اس نے پہلے شوہر کی زوجیت میں رہتے ہوئے دوسرا نکاح کیا مؤرخہ 2021۔02۔21 کو، اس صورتحال میں کیا نکاح جائز ہوا یا حدود کے زمرے میں آتا ہے؟ جواب دیجئے مہربانی فرما کر۔
نوٹ: طلاق پہلے شوہر نے دی ہے،جبکہ دوسرے شوہر کو معلوم تھا نکاح کرتے وقت کہ یہ عورت کسی اور کی منکوحہ ہے۔
واضح ہوکہ قصداً کسی غیر کی منکوحہ کے ساتھ نکاح کرنا شرعاً ناجائز وحرام اور گناہِ کبیرہ ہے،اور ایسا نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا،لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکور لڑکا لڑکی کا نکاح شرعاً باطل ہے اور جتنا عرصہ ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہے ہیں،گناہ گار ہوئے ہیں،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ واستغفار کریں اور آئندہ کیلئے اس قسم کے ناجائز کاموں سے مکمل اجتناب کریں اور عدالت مکمل تحقیق کے بعد اس پر(حد) سزا بھی جاری کرسکتی ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ (النساء:24 الآیة)
وفی رد المحتار: تأما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا اھ(3/132)۔
وفی الفقه الحنفی: فیحرم أن یتزوج زوجة الغیر ولامعتدته لأن ذالک یقضی الیٰ اشتباہ الأنساب اھ (2/173)۔