کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
۱۔ مردہ کو دفنانے کے بعد قبر پر اذان دینے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
۲۔ اذان میں نبی کریم ﷺ کے نام مبارک کو سن کر انگوٹھے چومنا کیسا ہے؟ کیا مذکورہ فعل کرے والا شخص گناہ گار ہوگا ؟ جواب مرحمت فرما کر ممنون فرمائیں۔
مذکور دونوں امور کا کسی صحیح سند سے قرونِ ثلاثہ "مشہود لہا بالخیر "یعنی صحابہ ، تابعین و تبع تابعین سے کوئی ثبوت نہیں، اس لیے یہ شرعاً ناجائز اور بدعت ہیں، ان سے احتراز لازم ہے۔
ففی حاشية ابن عابدين: لا يسن الأذان عند إدخال الميت في قبره كما هو المعتاد الآن، و قد صرح ابن حجر في فتاويه بأنه بدعة اه(2/ 235)۔
و فیه أیضا: ثم يقول: اللهم متعني بالسمع والبصر بعد وضع ظفري الإبهامين على العينين ( إلی قوله) وذكر ذلك الجراحي و أطال، ثم قال: و لم يصح في المرفوع من كل هذا شيء اه(1/ 398)۔