کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جیبی قرآن مجید اگر جیب میں ہو اور بھولے سے بندہ بیت الخلاء چلا جائے تو اس سے گناہ ہوگا یا نہیں ہوگا؟ یا بندہ کہیں ایسی جگہ پر ہے جہاں پر قرآن کریم نہیں رکھا جاتا اور اس حالت میں بیت الخلاء جانا پڑ جائے اور قرآن کریم جیب میں ہو تو جیبی قرآن مجید بیت الخلاء میں لیکر جا سکتے ہیں یا نہیں وضاحت فرمائیں؟ اور اسی طرح اگر کوئی اور صورتیں بن سکتی ہوں قرآن کریم کو بیت الخلاء میں لے جانے نہ لے جانے والی تو ہمیں اس پر بھی مطّلع فرما کر ممنون فرمائیں۔
اگر قرآن پاک کسی کپڑے غلاف و غیرہ میں بند کر کے جیب میں رکھا ہوا ہو تو ایسی صورت میں بیت الخلاء جانے کی اگر چہ گنجائش ہے مگر اس صورت میں بھی اسے باہر ہی رکھنا چاہیے، جبکہ اس کے علاوہ قرآن پاک کو بیت الخلاء لے کر جانا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
ففی حاشية ابن عابدين: (قوله: رقية إلخ) الظاهر أن المراد بها ما يسمونه الآن بالهيكل و الحمائلي المشتمل على الآيات القرآنية ، فإذا كان غلافه منفصلا عنه كالمشمع و نحوه جاز دخول الخلاء به و مسه و حمله للجنب. و يستفاد منه أن ما كتب من الآيات بنية الدعاء و الثناء لا يخرج عن كونه قرآن اھ(1/ 178)۔
و في الفتاوى الهندية: و على هذا إذا كان في جيبه دراهم مكتوب فيها اسم الله تعالى أو شيء من القرآن فأدخلها مع نفسه المخرج يكره اھ(5/ 323)۔
موبائل میں گانے بھرے ہوئے ہوں تو اس میں تلاوت بھروا سکتے ہیں یا نہیں؟
یونیکوڈ قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0