گناہ و ناجائز

مذہبی مقتدر شخصیات کا ٹی وی پر آ کر پروگرام کرنا

فتوی نمبر :
60442
| تاریخ :
2004-02-02
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مذہبی مقتدر شخصیات کا ٹی وی پر آ کر پروگرام کرنا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ!
(۱) ٹی وی پر آنا کیسا ہے؟ اگر جائز ہے تو اس کی دلیل سے مطلع کیجئے اور اگر ناجائز ہے تو کیا اس کا عدم جواز مطلقاً ہے یا کچھ خاص صورتوں میں؟ اگر کچھ خاص صورتوں میں عدم جواز ہے اور کچھ صورتوں میں جواز، مثلاً اگر براہِ راست کوئی چیز دکھائی جارہی ہو ، اسی طرح سے عالم تقریر کررہا ہو یا کوئی قاری صاحب ٹی وی میں آکر تلاوت کرے، یا کوئی عالم ، کسی غیر دینی جماعت کے کسی مقتدا سے بحث کررہا ہو اور یہ تمام چیزیں ٹی وی میں اس لئے دیکھیں اور علماء و قراء ٹی وی میں اس لئے آئیں تاکہ لوگوں کو فرقۂ باطلہ معلوم ہو اور لوگوں کی تجوید صحیح ہو وغیرہ وغیرہ صورت ہوئی کہ جس میں ٹی وی دیکھنے کو جائز قرار دیا جائے اور اگر اس میں فلمیں اور دیگر گندے ڈرامے دیکھے جائیں تو یہ صورت ہوئی عدم جواز کی۔
آیا یہ تقسیم کرنا صحیح ہے؟
اگر صحیح نہیں تو پھر ہمارے علماء ٹی وی پر کیوں آتے ہیں ؟ بالخصوص وہ علماء جو کہ مقتداء ہوں اور امداد الفتاویٰ میں لکھا ہے کہ کسی کا قول فعل دوسرے کیلئے ،سببِ وقوع فی المعصیت ہو تو اس کا ترک اس پر واجب ہے، مواقع تہمت و بدنامی سے بچنا ضرور سے ہے۔ (ج۳، ص۱۵۷)۔
جو لوگ ٹی وی دیکھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اب تو علماء بھی ٹی وی پر آتے ہیں لہٰذا ٹی وی دیکھنا جائز ہے۔
اور اگر علماء یہ کہتے ہیں کہ مقصود اس سے غیر مسلم تنظیموں کا مقابلہ کرنا ہے اور ٹی وی سے عوام الناس کو ان کے عقائد صحیحہ بتلانا مقصود ہے لہٰذا اس لئے ٹی وی پر آتے ہیں کیا ان کی یہ دلیل ہم وزن ہے کہ نہیں؟
(۲) جو کرکٹ کھیل براہِ راست دکھایا جائے اس کو دیکھنا جائز ہے یا نہیں؟ حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی کی طرف اس کا جواز منسوب کیا جاتا ہے۔
ان تمام جزئیات کا جواب ، بالتفصیل مع أدلتہا التفصیلیہ ،عنایت فرمائیں۔ بینوا توجروا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ٹی وی کا جو پروگرام منکراتِ شرعیہ سے خالی ہو اور براہِ راست نشر ہورہا ہو اس کا دیکھنا جائز ہے اور اس میں دکھائی جانے والی تصاویر اور نقوش درحقیقت تصویر بھی نہیں بلکہ عکس ہوتا ہے اور مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم سے بھی یہی منقول ہے، مگر ہر شخص کیلئے یہ تعیین اور فیصلہ کرنا کہ یہ پروگرام براہِ راست نشر ہورہا ہے یا کسی پروگرام کی فلم دکھائی جارہی ہے، انتہائی مشکل ہے، نیز موجودہ زمانہ میں ٹی وی ام الخبائث کی شکل اختیار کرنے کی وجہ سے ،منکرات و فواحشات اس کے پروگراموں کا جزء لاینفک بن گئے ہیں اور پھر مسئلہ بھی چونکہ حرام اور غیر حرام کا ہے، جس میں ترجیح حرمت کو ہی ہوتی ہے، اس لئے ٹی وی کے خریدنے اور دیکھنے وغیرہ سے اور نیز براہِ راست نشر ہونے والے پروگرام میں ، علماء کا اپنے آپ کو پیش کرنے اور عوام کا ایسے پروگراموں کو دیکھنے سے بھی احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اﷲ تعالٰی: و من الناس من یشتری لہو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم ویتخذہا ہزوًا اولئک لہم عذاب مہین۔ (سورۃ لقمان)۔
و فی تکملۃ فتح الملہم: اما التلفزیون و الفدیو فلاشک فی حرمۃ استعمالہما بالنظر إلی ما یشتملان علیہ من المنکرات الکثیرۃ(الی قولہ) و لکن ہل یتأتی فیہما حکم التصویر بحیث اذا کان التلفزیون او الفدیو خالبًا من ہذہ المنکرات باسرہا ہل یحرم بالنظر الی کونہ تصویرًا( الٰی قولہ)و یبدو ان صورۃ التلفزیون و الفدیو لا تستقر علی شیء فی مرحلۃ من المراحل الا اذا کان فی صورۃ فلم ، فان کانت صورۃ الانسان حیّۃ بحیث تبدو علی الشاشۃ فی نفس الوقت الذی یظہر فیہ الانسان امام الکیمراء فان الصورۃ لا تستقر علی الکیمراء و لا علی الشاشۃ و انّما ہی اجزاء کہربائیہۃ تنتقل من الکیمراء الی الشاشۃ و تظہر علیہا بترتیبہا الاصلی ثم تفنی و تزول۔ (ج۴، ص۱۶۴)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60442کی تصدیق کریں
0     1021
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات