درجِ ذیل مسائل جواب طلب ہیں، جواب عنایت کرکے احسان فرمائیں۔
(۱) اگر کسی شخص کو پیشاب کے قطروں کی شکایت ہو اور پوری احتیاط کے بعد بھی کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں تو اس کے لئے مسجد اور نماز و دیگر عبادات کے کیا احکامات اور طریقے ہیں؟
(۲) اگر رات میں نہانے کی ضرورت ہوجائے اور ہماری آنکھ طلوع آفتاب سے چند منٹ پہلے کھلے تو ایسی صورت میں جبکہ غسل کرنے کا وقت نہیں ہے نمازِ فجر کی ادائیگی کس طرح کریں؟
(۳) اگر کوئی شخص اپنی والدہ یا والد سے بد تمیزی کرے اور زبان سے سخت بات یا گالی نکال دے تو اس کا کفارہ کیا ہے جبکہ وہ (الف) والدین سے معافی مانگ لے اور وہ معاف کردیں، (ب) والدین سے معافی مانگنے کا موقع نہ مل سکے تو ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟
(۱) اگر اس شخص کو مسلسل اس طرح قطرے آتے ہوں کہ وضو کرکے نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور قطرہ آجاتا ہے، پھر وضو کرتا ہے اور نماز پوری کرنے سے پہلے اس کو قطرہ آجاتا ہے یہاں تک کہ ایک نماز کا پورا وقت اس طرح گزر جاتا ہےاور وہ نماز پوری نہ کرسکے ، تو یہ شخص شرعاً معذور ہے اس کا حکم یہ ہے کہ ہر نماز کے وقت میں یہ وضو کرے گا اور اس وقت میں جتنی نمازیں اور عبادات ادا کرنا چاہے کرسکتا ہے، وقت نکلنے کے ساتھ اس کا وضو جاتا رہے گا۔
اور اگر قطرے مسلسل نہیں آتے بلکہ پیشاب کے بعد قطروں کی شکایت ہے اور تھوڑی دیر گزرنے کے بعد قطرے رک جاتے ہیں تو اس کو چاہئے کہ پیشاب کرکے قطروں کے رُکنے کا اطمینان کرلے اس کے بعد طہارت حاصل کرکے نماز پڑھے۔
(۲) ایسی صورت میں بھی غسل لازم ہے پھر غسل کرنے کے بعد اگر وقت باقی ہو تو نماز پڑھ لے، ورنہ مکروہ وقت گزرنے کے بعد نمازِ فجر کی قضا کرلے۔
(۳) والدین سے تہہ دل سے معافی مانگ لے ، اگر حیات میں معافی کا موقع نہ مل سکے تو بعد میں ان کیلئے دُعا اور ایصالِ ثواب کرتے رہیں تو ان شاء اﷲ آخرت میں مواخذہ نہیں ہوگا ، اس کیلئے کوئی ’’شرعی کفارہ‘‘ متعین نہیں ہے۔