گناہ و ناجائز

ذہنی بیمار بچے کا مسجد کی کھڑکی توڑنے اور قرآن کریم کو جلانے کی کوشش کرنے کا کفارہ

فتوی نمبر :
60216
| تاریخ :
2015-03-03
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ذہنی بیمار بچے کا مسجد کی کھڑکی توڑنے اور قرآن کریم کو جلانے کی کوشش کرنے کا کفارہ

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے کہ ایک بچہ مسمیّٰ ’’اللہ رحم‘‘ پچھلے آٹھ(8) سال سے اس کو کسی بیماری نے پکڑا ، کتنا علاج کیا، بڑے بڑے عالموں کے پاس ،ملاؤں کے پاس اور بڑے بڑے ڈاکٹروں کے پاس علاج کرایا، تھوڑا ٹائم صحیح ہوتا ہے، پھر پتہ نہیں کیا ہوتا ہےپھر بگڑ جاتا ہے ، اپنے باپ کے لیے اس نے گھر میں کچھ نہیں چھوڑا ، ایک دفعہ گھر کو جلانے کی کوشش کی ، سارے کپڑے وغیرہ کتابیں سب جلا دیں ، بہت ملّاؤں نے مشورہ دیا کہ قرآن پاک کی اُن فلاں آیات کو 40 دن یا ایک مہینہ ورد کرو ، پانی میں دم کرو اور اس کو پلادو تو صحیح ہو جائے گا ، لیکن ابھی بھی صحیح نہیں ہوا ہے،اور میں اس کا والد حافظِ قرآن ہوں، 35 سال ہوگئے مسجد میں امامت کرتا ہوں، اب تو اللہ معاف کرے ، مجھ پر چاقو اُٹھانے کی کوشش کر رہاہے ، ابھی ایک مہینہ ہو گیا ہے ادھر کراچی میں اس کا علاج چل رہا ہے ، دوائیوں کے زور سے ابھی تھوڑا اچھا ہوا، مگر ایک بڑی غلطی کی ، ابھی خود بول رہا ہے کہ اللہ معاف کرے مسجد کی کھڑکی کو شہید کیا ، اندر جا کر قرآن پاک کو شہید کرنے کی کوشش کی اور اس میں ماچس جلائی تا کہ جل جائے، اللہ کے فضل وکرم سے اللہ نے اپنے کلام کی حفاظت فرمائی اور سارے مقامی لوگ ہمراہ ہمسایہ بڑے بڑے عالم مسجد میں جمع ہوگئے کہ اللہ کا کلام پاک کس نے شہید کرنے کی کوشش کی؟ ساروں نے مل کر رو رو کر بدعا کی ، ابھی یہ بچہ کہتا ہے کہ یہ کام میں نے کیا تھا ،ابھی چاہتا ہوں کہ اس کو ایک مہینہ چلہ تبلیغ پر لے کر جائیں، لیکن وہ بچہ تیار نہیں ہے جانے کے لیے، ابھی اس کے اندر درندگی ہے ابھی واپس ملک لے کر جائیں تو کہیں اپنے باپ کے اوپر پھر سے چاقو نہ اُٹھالے ، اپنے باپ کے اوپر چاقو چلانا اللہ پاک کے کلام پر چاقو چلانا ہے، کیونکہ باپ کے سینے میں اللہ پاک کا کلام ہے ، باپ حافظِ قرآن ہے۔
نوٹ: سائل کا مقصود و مطلوب یہ ہے کہ بچہ نے جو یہ حرکتیں (مسجد کی کھڑکی اور قرآن مجید کی بے حرمتی ) کی ہیں اس کا کیا کفارہ ہےاور اس سلسلہ میں شرعی حکم کیا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جب مذکور شخص اپنے ہوش میں نہیں یا دیوانہ ہے تو مرفوع القلم ہونے کیوجہ سے اس کی مذکور حرکات ناپسندیدہ اور قبیح ہونے کے باوجود عند اللہ مواخذہ کا باعث نہیں، البتہ اس کا علاج اور اللہ تعالیٰ سے اس کے حق میں صحت کی دعاؤں کا اہتمام چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی سنن ابی داؤد : عن عائشة رضى الله عنها أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال « رفع القلم عن ثلاثة عن النائم حتى يستيقظ و عن المبتلى حتى يبرأ و عن الصبى حتى يكبر ».اھ(4/ 243)۔
و فیه ایضا : أن رسول الله - الله عليه وسلم - قال « رفع القلم عن ثلاثة عن المجنون المغلوب على عقله حتى يفيق و عن النائم حتى يستيقظ و عن الصبى حتى يحتلم » اھ(4/ 244)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60216کی تصدیق کریں
0     711
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات