نکاح

بیوی کے بارے میں معلوم ہوجاۓ کہ وہ تقلید کی منکر اور گمراہ کن عقائد ونظریات کی حامل ہے تو اس کا نکاح باقی رہتا ہے یانہیں؟

فتوی نمبر :
60187
| تاریخ :
2021-01-12
معاملات / احکام نکاح / نکاح

بیوی کے بارے میں معلوم ہوجاۓ کہ وہ تقلید کی منکر اور گمراہ کن عقائد ونظریات کی حامل ہے تو اس کا نکاح باقی رہتا ہے یانہیں؟

گزارش ہے کہ ایک نہایت اہم شرعی مسئلہ درپیش ہے، جس میں آپ سے قرآن و حدیث اور شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں فتویٰ کی ضرورت ہے۔
میں ایک سنی دیوبندی اور فقہ حنفی سے تعلق رکھتا ہوں، اور میرا خاندان امیرِ شریعت سید عطا ء اللہ شاہ بخاری کے مریدین میں سے ہے ، ایک سال قبل میرا نکاح ہماری برادری کی ایک لڑکی سے ہوا، جو اپنے آپ کو عالمہ کہتی ہے، لیکن میرے گھر میں آنے کے بعد معلوم ہوا، کہ وہ عالمہ نہیں ہے، بلکہ اس نے دنیوی تعلیم حاصل کرکے ایک ٹیچر کے پاس سے بخاری شریف کی چند احادیث کا ترجمہ پڑھا ہے اور تربیت حاصل کی ہے ، وہ باقاعدہ کسی مدرسہ سے فارغ التحصیل نہیں ہے، اور نہ ہی اس کے پاس کسی مدرسہ کی سند ہے ، جس استانی سے پڑھی ہے ، وہ بھی کسی مدرسہ سے نہیں پڑھی ، وہ محلے کی عورتوں اور بچیوں کے نظریات اور عقائد خراب کررہی ہے ، اس کا خاوند شیعہ ہے اور جہاں ایک کمرہ لیکر عورتوں کے عقائد اور نظریات خراب کر رہی ہے، وہاں کی آبادی اکثریت شیعہ مسلک کے لوگوں کی ہے۔
میری بیوی اور میرے سسرال والوں کے عقائد اور اعمالِ شرعیہ اور نظریات چاروں ائمہ کرام اور عام پاکستانی مسلمانوں سے مختلف ہیں ، کبھی میری بیوی اپنے آپ کو اہلحدیث بتاتی ہےاور کبھی ’’الھدیٰ انٹر نیشنل ٹرسٹ‘‘ کے ساتھ اپنے آپ کو جوڑتی ہے، اور کبھی کہتی ہے کہ میرا کسی مسلک سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہم نے ظاہری اور عملی طور پر اس کے عقائد اور اعمالِ شرعیہ کی تحقیق کی ہے، جس کے بے شمار گواہ بھی ہیں،اس کے عقائد اور اعمال کی تفصیل درجِ ذیل ہیں:
۱۔ صرف قرآن مجید اور بخاری شریف کی بات مانتی ہے اور اسی کو مستند جانتی ہے، ہر قسم کی تقلید کا انکار کرتی ہے، حتی کہ صحابہ کرام کی تقلید کو بھی نہیں مانتی۔
2۔ قرآن مجید کے صرف دس پارے اپنے ساتھ لائی ہے اور انہیں کو پڑھتی ہے ، باقی قرآن کی کبھی تلاوت نہیں کی اور نہ ہی پورا قرآن مجید ساتھ لائی ہے، حتیٰ کہ رمضان المبارک میں بھی قرآن مجید کی تلاوت کا کوئی اہتمام نہیں کیا۔
3۔ سورۃِ یٰس کی تلاوت کرنے کو بھی نہیں مانتی ، اور کسی مقصد کیلئے سورۃ یٰس کو پڑھنا نہیں مانتی، اور ایصالِ ثواب کو بھی نہیں مانتی۔
4۔ ظاہری طور پر اس کا وضو بھی مشکوک ہے، چھپ کر وضو کرتی رہتی ہےاور سنت کے مطابق کبھی وضو کرتے نہیں دیکھا، صرف فرائض ادا کرتی ہے۔
5۔ اس کے نماز پڑھنے کا طریقہ بھی چاروں ائمہ کرام ( حنفی ،شافعی، حنبلی، مالکی ) سے جدا ہے ، اس کی نماز وہ نماز نہیں ہےجو کہ عام مسلمان عورتوں کی نماز ہے ، مردوں کی نماز پڑھتی ہے ، سجدے میں سر اور تالو لگاتی ہے۔ اور التحیات میں گھٹنا کھڑا رکھتی ہے، اور علیحدہ کمرے میں چھپ کر نماز پڑھتی ہے، تا کہ میرا یہ عمل کسی پربھی ظاہر نہ ہو۔
6۔ ان کے والدین نے قربانی ایک دن پہلے کی ہے، جس کے بے شمار گواہ موجود ہیں کہ کیلنڈر کے حساب یا ہندی مہینے کے حساب سے کرتی ہیں ، چاند کے حساب سے نہیں کرتے ، اور جس استانی سے پڑھی ہے، وہ ہر سال اسی طرح قربانی اپنے اس تربیت سنٹر میں کرتی ہے۔
7۔ تقلید کو نہیں مانتی، اور چاروں ائمہ کرام کی تقلید کو نہیں مانتی ، اور نہ ہی اجماع کو مانتی ہے۔
8۔ اپنے اصل عقائد اور نظریات کو چھپا رہی ہے، اور جھوٹ کا سہارا لیتی ہے، اور توریہ یا تقیہ کا سہارا لیتے ہوئے کبھی اہلحدیث کے پیچھے چھپتی ہے، اور کبھی الھدیٰ انٹرنیشنل ٹرسٹ فاؤنڈیشن کی آڑ لیتی ہے۔
کیا فرماتے ہیں علماء کرام ان عقائد و نظریات کے بارے میں جو میری بیوی میں پائے جاتے ہیں ، کیا میرا اس کے ساتھ رہنا درست ہے؟ کیا ان کے خاندان کیساتھ تعلقات رکھنا درست ہے ؟ کیا ہمارا نکاح درست ہے،جبکہ وہ میرے بچے کہ ماں بننے والی ہے، اور حاملہ ہے، اور ہونے والے بچے کی بارے میں کیا حکم ہے؟ آیا وہ مسلمان ہونگے یا نہیں؟ کیا اس سے چھٹکارا حاصل کرنا درست ہے یا اصلاح درست ہے؟ اگر وہ اصلاح نہیں کرتی تو میرے لیے کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے سوال میں بیوی کے جو عقائد و اعمال کی تفصیل ذکر کی ہے، وہ اہلِ سنت و الجماعت کے نظریات اور طریقہ کار کے مطابق نہیں، لہٰذا اگر سائل کی بیوی واقعۃً مذکور نظریات کی حامل اور سوال میں درج طریقہ کار کے مطابق اعمال پر عمل پیرا ہو تو اسے چاہیے کہ مذکور نظریات سے توبہ تائب ہو کر اہلِ سنت و الجماعت کے طریقہ کا ر کے مطابق نظریات اور اعمال کی پابندی کرے، تاہم مذکور عقائد و اعمال ایسے نہیں ہیں کہ جن کی وجہ سے سائل کی بیوی دائرۂ اسلام سے خارج ہو چکی ہو ، البتہ اس کا انجام و انتہاء گمراہی ضرور ہے، مگر اس کے باوجود سائل کا اپنی بیوی کے ساتھ نکاح بدستور قائم ہے، اور آئندہ کے لیے بھی اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بجائے سائل کو چاہیے کہ حکمت و بصیرت کے ساتھ اس کی اصلاح کی کوشش کرے، امید ہے کہ وہ راہ راست پر آجائے،ورنہ طلاق دینا بہتر رہے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الشامية : و بہذا ظہر أن الرافضی إن کان ممن یعتقد الألوھية فی علی ، أو أن جبریل غلط فی الوحی ، أو کان ینکر صحبة الصدیق ، أو یقذف السیدة الصدیقة فھو کافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدین بالضرورة ، بخلاف ما إذا کان یفضل علیا أو یسب الصحابة فإنه مبتدع لا کافر اھ(4/135)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60187کی تصدیق کریں
0     1381
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات