نکاح

مذاق میں نکاح منعقد ہونے کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
60166
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

مذاق میں نکاح منعقد ہونے کی ایک صورت کا حکم

ہم دوستوں میں بات چل رہی تھی کہ قبول کہنے سے نکاح ہو جاتا ہے، تو میں نے کچھ دوستوں میں ایک لڑکے سے "قبول ہے " کہہ دیا نکاح اس لڑکے سے ہو گیا ہے ؟ پر اس وقت مجھے واضح نہیں تھا، کہ یہ سچ میں نکاح ہے ، بعد میں کسی لڑکے نے بتایا کہ سچ میں ایسے نکاح ہو جاتا ہے تو واضح ہوا، اس صورت میں کیا میرا نکاح اس لڑکے سے ہو گیا ہے؟
نوٹ: مزید وضاحت کے لیے سائلہ نے کہا کہ دوستوں کی محفل میں بس یہی بات چلی تھی، کہ اس طرح بھی نکاح ہو جاتا ہے ، تو میرا ایک دوست مجھ میں دلچسپی لے رہا تھا، اس نے کہا کہ چلو پھر ہم اس طرح کر لیتے ہیں، اور اس نے کہا کہ میں فلان بن فلاں آپ کو نکاح میں قبول ہوں، تو میں نے جواب میں کہا کہ قبول ہے ، نہ کوئی مہر کی بات ہوئی تھی، نہ کوئی حقیقی نکاح کی نیت تھی، ہم دونوں کی فیملیاں میڈل کلاس کی ہیں، دینداری میں برابر ہے، البتہ برادری الگ الگ ہے، لیکن والدین کی رضامندی سے آپس میں رشتہ ہو جاتا ہے، اور اگر میں والدین کے سامنے اس کا تذکرہ کروں تو وہ غصہ ہونگے کبھی نہیں مانیں گے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ اور مذکور لڑکے کا اولیاء کی اجازت ورضامندی کے بغیر از خود اپنا نکاح کرانا انتہائی نامناسب عمل تھا، معزز خاندانوں میں اس طرح کا عمل انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے ، تاہم مذکور لڑکا اگر سائلہ کا کفو اور ہم پلہ ہو، اور دونوں نے گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کر لیا ہو، تو یہ نکاح شرعا منعقد ہو چکا ہے ، لہذا اب سائلہ اور مذکور لڑکے کو چاہیے کہ کسی طرح مناسب طریقے سے اپنے بڑوں کو راضی کر کے اس نکاح کے لیے آمادہ کریں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففى فيض القدير: ثلاث جدهن جد وهزلهن جد: النكاح والطلاق والرجعة (إلی قوله) (النكاح) فمن زوج ابنته هازلا انعقد النكاح وإن لم يقصده اھ (3/ 300)
و في الموسوعة الفقهية الكويتية: والهزل ضد الجد ، يقال : جد في كلامه جدا - من باب ضرب - ضد هزل. ومنه قوله عليه الصلاة والسلام : ثلاث جدهن جد ، وهزلهن جد : النكاح ، والطلاق ، والرجعة اھ (42/ 270)
و في معالم السنن: وقال لو أطلق للناس ذلك لتعطلت الأحكام ولم يشأ مطلق أو ناكح أو معتق أن يقول كنت في قولي هازلاً فيكون في ذلك إبطال أحكام الله سبحانه وتعالى وذلك غير جائز فكل من تكلم بشيء مما جاء ذكره في هذا الحديث لزمه حكمه ولم يقبل منه أن يدعى خلافه وذلك تأكيد لأمر الفروج واحتياط له والله أعلم. (3/ 243)
و في الهداية شرح البداية: قال النكاح ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين يعبر بهما عن الماضي اھ (1/ 189)
وفيه ايضاً : إلا أن محمدا رحمه الله يقول يرتفع الخلل باجازة الولي ووجه الجواز أنها تصرفت في خالص حقها وهي من أهله لكونها عاقلة مميزة ولهذا كان لها التصرف في المال ولها اختيار الأزواج وإنما يطالب الولي بالتزويج كيلا تنسب إلى الوقاحة ثم في ظاهر الرواية لا فرق بين الكفء وغير الكفء ولكن للولي الاعتراض في غير الكفء وعن أبي حنيفة وأبي يوسف أنه لا يجوز في غير الكفء لأنه كم من واقع لا يرفع ويروي رجوع محمد إلى قولهما اھ (1/ 196) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سہیل میرولی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 60166کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات