کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک تالاب میں (سوئمنگ پول) تیراکی کرنے جاتا ہوں، یہ پچاس میٹر لمبا اور دوفٹ پانچ انچ سے پانچ فٹ نو انچ گہرا ہے، اس میں ایک وقت میں ۳۰ سے ۴۰ لوگ تیراکی کر سکتے ہیں، کیا مجھے تیراکی کے بعد نہانا چاہیۓ پاکیزگی حاصل کرنے کے لۓ؟ شریعت میں ایک ہاتھ سے کیا مطلب ہے؟ کیا اس کا مطلب ہاتھ کہنیوں تک یا کمر تک کا ہے؟
مذکور تالاب میں اگر صاف و ستھرا پانی جمع کیا جاتا ہے تو اتنی تعداد میں آدمیوں کے بیک وقت یا علیحدہ علیحدہ نہانے سے وہ ناپاک نہیں ہوتا، بلکہ پاک ہی رہتا ہے، لہٰذا دوبارہ نہانے کی ضرورت نہیں اور اگر کوئی شخص اطمینانِ قلب کی خاطر ایسا کرلے تو اسکی گنجائش ہے۔
سوال میں ہاتھ سے مراد ’’ذِراع‘‘ ہے تو واضح ہو کہ ایک ذراع ہاتھ کی بڑی انگلی کے کنارے سے کہنی تک کا نام ہے، بعض حضرات نے چھ (۶) مٹھی یعنی چوبیس انگلیوں کے برابر لمبائی کی مقدار قرار دی ہے۔
فی المحيط البرهاني في الفقه النعماني: وفي «أجناس الناطفي» أن من اغتسل من حوض فلا حرج أن يتوضأ في ذلك المكان، وليس لرجل أن يغتسل في الحوض الكبير بناحية الجيفة، وإذا كان الماء(الی قولہ) أو خندق وله طول مثلاً مائة ذراع وعرضه ذراع أو ذراعان فاعلم بأن في جنس هذه المسألة أقوال ثلاثة، على قول أبي سليمان الجوزجاني يجوز التوضؤ منه. من غير تفصيل به ولو وقع فيه نجاسة يتنجس وطول عشرة أذرع. وقال محمد بن إبراهيم: الكبير إن كان هذا الماء مقدار ما لو جعل في حوض عرضه عشرة في عشرة ملأ الحوض وصار عمقه قدر شبر يجوز التوضؤ فيه وإلا فلا اھ(1/ 96)۔
وفی المغرب: والذراع من المرفق إلی الأصابع ثم سمی بها الخشبة التی یزرع بها (إلی قوله) والذراع المکسرة ست قبضات وھی ذراع العامة وإنما وصف بذلك لأنها نقصت عن ذراع الملك وھو بعض إلاکاسترة ولاة فرس وکانت ذراعه سبع قبضات اھ (۱/۱۹۱) (باحوالہ جواہر الفقہ ۱/۴۳۱)۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي: واتفق العلماء على عدم وجوب الوضوء في الغسل إلا داود الظاهري فقال بالوجوب في غسل الجنابة وإذا توضأ أولا لا يأتي به ثانيا بعد الغسل، فقد اتفق العلماء على أنه لا يستحب وضوءان. ذكره النووي في شرح مسلم يعني لا يستحب وضوءان للغسل، أما إذا توضأ بعد الغسل واختلف المجلس على مذهبنا أو فصل بينهما بصلاة كما هو مذهب الشافعي فيستحب اھ (1/ 134)۔