کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی خاتون پاک ہونے کی عرض سے غسل کرے اور ناک کان یا ناف کے اندر پانی ڈالنا بھول جائے یا کلّی کرنا بھول جائے اور اس کے بعد وہ ایک نماز یا کئی نمازیں ادا کرے پھر اس کو یاد آئے کہ مذکو رجگہ میں پانی نہیں ڈالا تو ایسی صورت میں غسل اور ادا شدہ نمازوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا غسل پھر سے کرنا پڑےگا اور نمازیں بھی لوٹانی ہوں گی؟
غسلِ جنابت کے دوران منہ اور ناک میں پانی ڈالنا فرض ہے، ان دونوں کے بغیر غسل نہیں ہوگا۔ اور بغیر غسل کے نماز نہیں ہوگی۔ ایسی نمازوں کا لوٹانا لازم ہے، جبکہ دوبارہ پورے غسل کی ضرورت نہیں، بلکہ ناک، کان اور ناف میں پانی ڈالنا کافی ہے، البتہ غسلِ جنابت کے علاوہ کسی دوسرے غسل میں پانی ڈالنا فرض نہیں۔
وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين: أن الغسل في الاصطلاح غسل البدن، واسم البدن يقع على الظاهر والباطن إلا ما يتعذر إيصال الماء إليه أو يتعسر كما في البحر، فصار كل من المضمضة والاستنشاق جزءا من مفهومه فلا توجد حقيقة الغسل الشرعية بدونهما، ويدل عليه أنه في البدائع ذكر ركن الغسل وهو إسالة الماء على جميع ما يمكن إسالته عليه من البدن من غير حرج اھ(1/ 151)
وفی الفتاوى الهندية: (الفصل الأول في فرائضه) وهي ثلاثة: المضمضة، والاستنشاق، وغسل جميع البدن على ما في المتون. (1/ 13)
وفی المختصر فی الفقه الحنفی: لو وجد موضعا یابسا بعد الغسل لا یجب تجدید الغسل بل یکفی اسالة الماء علیه اھ (38) واللہ أعلم بالصواب!