کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ ہمارے علاقے میں تقریباً پندرہ سو گز پر آج سے تقریباً پچیس برس قبل ایک سو مربع گز جگہ پر ایک مسجد تعمیر ہوئی، اور تقریباً پندرہ برس تک اس مسجد میں نماز باجماعت ہوتی رہی، پھر اس کے بعد ایک بہت بڑی عالی شان مسجد تعمیر ہوئی اس جگہ سے ہٹ کر، پھر اس سابقہ مسجد میں بچے اور بچیاں قرآن پاک پڑھتے ہیں۔
اب مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ اس سابقہ مسجد کو شہید کرکے وہاں مسجد کی آمدنی کیلئے دکانیں بناسکتے ہیں یا نہیں؟ اس لئے کہ جب مسجد بنائی گئی تھی اس وقت کے لوگ موجود نہیں ہیں کچھ فوت ہوگئے ہیں کچھ یہاں سے چھوڑ کر چلے گئے ہیں، ان کا کچھ علم نہیں ہے کہ کہاں چلے گئے۔
البتہ اس وقت کے جو کچھ نمازی تھے وہ یہ شہادت دیتے ہیں کہ یہ مسجد عارضی طور پر بنائی گئی تھی، کہ جب تک عالی شان مسجد تعمیر نہیں ہوتی اس میں نماز پڑھتے رہیں گے، یعنی اس وقت یہ ارادہ کیا گیا تھا۔
اب آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا جواب عنایت فرمائیں۔ شکریہ!
صورتِ مسئولہ میں اس مسجد کے سابقہ نمازیوں میں سے جو لوگ اس مسجد کے عارضی ہونے کی شہادت دے رہے ہیں اگر ان کی شہادت واقعۃً درست ہے تو اس صورت میں مذکور مسجد ،شرعی مسجد نہیں تھی بلکہ فقط ایک جائے نماز تھی نیز انہی لوگوں کا اسی سابقہ مسجد کے پہلو میں ایک عالیشان بڑی مسجد تعمیر کرنا بھی اس سابقہ مسجد کے جائے نماز اور عارضی ہونے پر دلالت کرتا ہے، لہٰذا اس جگہ کو مسجد کی انتظامیہ جن مقاصد میں استعمال کرنا چاہے شرعاً اس کی گنجائش ہے، تاہم اگر اس جگہ کو کسی دینی مصرف میں لایا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
فی الھندیۃ: وذکر الصدر الشہیدؒ فی الواقعات ساحۃ لا بناء فیہا أمر قومًا ان یصلوا فیہا بجماعۃ فھذا علٰی ثلاثۃ أوجہ أحدہا أما أن أمرہم بالصلاۃ فیہا ابدًا نصا بأن قال صلوا فیہا ابدًا أو امرہم بالصلاۃ مطلقًا ونوی الابد ففی ھذین الوجہین صارت الساحۃ مسجدًا لومات لا یورث منہ وأما إن وقت الامر لیوم أو الشہر أو السنۃ ففی ھذا الوجہ لا تصیر الساحۃ مسجدًا لومات یورث عنہ۔ اھـ (ج:۲، ص:۴۵۵) وﷲ اعلم!
مساجد میں درسِ قرآن اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کے سلسلے میں اختلافات پر شرعی رہنمائی
یونیکوڈ حقوق مسجد 2عارضی مسجد (جائے نماز) کو شہید کرکے وہاں نئی مسجد کی آمدن کے لئے دکانیں بنانا جائز ہے؟
یونیکوڈ حقوق مسجد 3ضرورتمندوں کو اپنی ضروریات کیلئے اور مدرسہ والوں کا طلباء کے لئے مسجد میں چندہ مانگنا
یونیکوڈ حقوق مسجد 0