نکاح

اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح جائز ہونے کی وجہ

فتوی نمبر :
58974
| تاریخ :
2004-09-18
معاملات / احکام نکاح / نکاح

اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح جائز ہونے کی وجہ

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ’’ اہلِ کتاب‘‘ کو ن لوگ کہلاتے ہیں؟ اور کیا ان سے نکاح جائز ہے؟ قرآن پاک میں سورة المائدة کی آیت میں ہے :
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي اور ا‬لْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (المائدة: 51)اور سورہ الممتحنة میں ہے:
﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ﴾ (الممتحنة: 1)
ایک طرف ان سے دوستی کو منع کیا جارہا ہے اور ہم نے سنا ہے کہ اہلِ کتاب سے نکاح جائز ہے، جبکہ نکاح دوستی سے اگلا درجہ ہے، اس کا جواب مفصل عنایت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اہلِ کتاب سے مراد وہ یہود ونصاریٰ ہیں جو دینِ سماوی پرایمان رکھتے ہوں،دہریے اور لامذہب نہ ہوں (جیسا کہ آجکل کے اکثرعیسائی ہیں)،جبکہ مسلمان مرد کےلیےکتابیہ عورت کے ساتھ(جو حقیقتاً آسمانی کتاب کوماننے والی ہو) نکاح اس لیے جائز ہے کہ چونکہ عام طور پر بیوی ماتحت اور شوہر حاکم ہوتا ہے،لہذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اسلام کی قوی اور روشن حجتوں اور مضبوط دلائل کے ذریعہ کتابیہ عورت اور اس کے خاندان کے لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کرسکے، البتہ اگریہ اندیشہ ہوکہ کتابیہ عورت سے نکاح کے بعد خود مسلمان مرد اپنے ایمان کو قربان کربیٹھے گا توپھرمسلمان مرد کے لیے کتابیہ عورت کے ساتھ نکاح کی بھی شرعاًاجازت نہ ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی أحکام القرآن: ونحن نقول بالکراهة کما صرح به فی البدائع، وجه الکراهة فی نکاح الکتابیة امة أو حرة استلزامه موالات الکفار و قدنھینا عنه قال اللہ تعالیٰ:لاتتخذوا الیھود النصاریٰ الخ۔(3/103)
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: الكتابية: هي التي تؤمن بدين سماوي، كاليهودية والنصرانية. وأهل الكتاب: هم أهل التوراة والإنجيل، لقوله تعالى: ان تقولوا انما انزل الکتاب علیٰ طائفتین من قبلنا (انعام 56/6)(9/ 6653)
وفیه أیضاً: وقد أجمع العلماء على إباحة الزواج بالكتابيات، لقوله تعالى: ﴿اليوم أحل لكم الطيبات، وطعام الذين أوتوا الكتاب حل لكم، وطعامكم حل لهم، والمحصنات من المؤمنات، والمحصنات من الذين أوتوا الكتاب من قبلكم﴾ (المائدة:5/ 5) والمراد بالمحصنات في الآية: العفائف، ويقصد بها حمل الناس على التزوج بالعفائف، لما فيه من تحقيق الود والألفة بين الزوجين، وإشاعة السكون والاطمئنان. والسبب في إباحة الزواج بالكتابية (إلی قوله) ويرجى إسلامها؛ لأنها تؤمن بكتب الأنبياء والرسل في الجملة. والحكمة في أن المسلم يتزوج باليهودية والنصرانية، دون العكس: هي أن المسلم يؤمن بكل الرسل، وبالأديان في أصولها الصحيحة الأولى، فلا خطر منه على الزوجة في عقيدتها أو مشاعرها، (إلی قوله) یكره ـ عند الحنفية والشافعية اھ .(9/ 6653)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 58974کی تصدیق کریں
0     2211
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات