کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا ایک بڑا بھائی ہے جو والدین کے ساتھ رہتا ہے، ہماری رہائش مشترکہ ہے میرے والد کے دو بھائی بھی ہیں اور سب مل کر ایک ہی گھر میں رہتے ہیں، میں آج کل لاہور میں ہوں اور میرے والدین فیصل آباد میں ہیں، میرے والد میرے جماعت کے ساتھ باہر جانے کے مخالف ہیں کیونکہ میں اپنی موجودہ ملازمت، سے استعفیٰ دے کر جارہا ہوں، میرے والد کے خیال میں، میں اپنا مستقبل خراب کررہا ہوں، ہمارے گھر میں کوئی معاشی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ میرے والد ایک مستحکم کاروبار اپنے بھائیوں کے ساتھ چلارہے ہیں، میرے والد چاہتے ہیں کہ میں بہتر معاشرے میں رہوں اور امیر ہوجاؤں۔
سائل کو چاہئے کہ محض جماعت کے ساتھ جانے کیلئے کام سے استعفیٰ دے کر نہ جائے البتہ حسبِ استطاعت کم و بیش وقت کیلئے رخصت لے لے اور اپنے والد کو بھی راضی رکھے اور والد کو بھی چاہئے کہ اگر انہیں سائل کی خدمت وغیرہ کی فوری ضرورت نہ ہو تو اسے جماعت میں کچھ وقت باہر لگانے کی بھی اجازت دے دے۔
وفی الدر: ولہ الخروج لطلب العلم الشرعی بلا أذن والدیہ۔ اھـ (ج۶، ص۴۰۸)-
وقال الشامیؒ تحتہٗ ای ان لم یخف علی والدین الضیعۃ ان کانا موسرین ولم تکن نفقتہما علیہ۔ اھـ (ج۶، ص۴۰۸)-