کیا پیار کا چکر چلانا اسلامی مذہب کی رو سے درست ہے؟ یہ سوال میرے لیے بہت اہم ہے،میں انشاء اللہ شریعت کے مطابق اس پر عمل کروں گی۔ مہربانی فرما کر جلد جواب دیجیے۔
واضح ہو کہ مروجہ پیار اور دوستانہ تعلقات وغیرہ انتہائی نا پسندیدہ حرکت اور گناہوں کا مجموعہ ہیں، جبکہ شادی پیار و محبت کا سب سے بہترین ذریعہ ہے۔ جب تک کسی لڑکا اور لڑکی کا باہم عقد نکاح نہ ہو جائے اسوقت تک باہم دوستانہ تعلقات ، بے تکلفی اختیار کرنا ایک دوسرے کے نامحرم ہونے کی وجہ سے نا جائز ہے اس لیے سائلہ کو بجائے ان مہلکات میں پڑنے کے اپنے مستقبل کی بہتری کی فکر اور اعمال کے ساتھ وابستگی اختیار کرنی چاہئے۔ اور اگر بغیر شادی کے گناہ میں پڑنے کا اندیشہ ہو تو بذات خود یا کسی دوسری بہن وغیرہ کے ذریعہ والدین کو شادی کرانے پر آمادہ کرنا چاہئے ۔
کما في الفقه الاسلامي : فلا يجوز أن يخلو رجل با مرتہ ليست زوجته ولا ذات محرم منه (إلى قوله) و قولہ " ألا لا يخلون رجل بامرأة إلا كان ثالثها الشيطان(3/567)