میں اور چھوٹا بھائی ایک فلیٹ میں ساتھ رہتے تھے،اب کچھ عرصہ قبل بھائی سے الگ رہائش اختیار کی ہے، کیونکہ بچے بڑے ہو گئے اور ایک کمرے میں گزارا ممکن نہیں تھا،میں کسی ناراضگی یا نااتفاقی سےالگ ہوا اور چند قدم کے فاصلے پر دوسرا فلیٹ کرایہ پر لیا ،اب سوال یہ ہے کہ میرابھائی ہماری والدہ کو میرے گھر نہیں لانے دیتا اور میری دونوں بہنیں بھی اس کو اس عمل سے نہیں روکتیں،اس صورتحال میں اب میں والدہ کی خدمت نہیں کر سکتا، والدہ بیمار رہتی ہیں، جبکہ 1993 میں والد صاحب کی وفات کے بعد میں نے اپنی فیملی کو مکمل سپورٹ کیا ، ایک بڑے بھائی کی حیثیت سے جو کہ میری ذمہ داری تھی، اس تمام صورتحال میں میرے لئے کیا حکم ہے ؟ مجھے میرے ایک جائزحق سے محروم کیا گیا ہے ۔میرے بھائی اور میری بیوی کے درمیان اختلافات رہتے ہیں۔
اگرسائل کا بیان واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس طورپر کہ سائل کاچھوٹا بھائی اپنی والدہ کو سائل کے پاس جانے نہیں دیتا، تو اس کا یہ طرزِ عمل قطعاً غلط اور غیر شرعی ہے، جس کی وجہ سے وہ گنہگار ہورہاہے، تاہم اگر سائل والدہ کو اپنے پاس لانے کے بجائے وہاں جاکر کچھ دیر وہاں اس کا حال احوال لیتارہے، اور انہیں ضرورت کی اشیاء دوائی وغیرہ بھی دینے کا اہتمام کرتے رہاکرے، تو یہ بھی والدہ کی خدمت کا حصہ ہے، اور اس پر بھی سائل عنداللہ ماجورہوں گے۔