محترم مفتی صاحب ! السلام علیکم !
مطلقہ عورت کی عدت تین ماہواری یا تین مہینے کہا گیا ہے، تو معلوم یہ کرنا ہے کہ اگر کسی عورت کی تین ماہواریاں پورے دو مہینوں کے اندر پوری ہو جائیں تو وہ عدت کی تکمیل مانی جائے گی یا بہر حال تین مہینے گزارنے ہیں ؟
جی ہاں !گر تین ماہواریاں دو مہینے میں بھی پوری ہو جائیں اور اسکی عادت بھی اس طرح کی ہو ,ہر ماہواری تین دن سے کم اور دو ماہواریوں کے درمیان کی پاکی پندرہ دن سے کم نہ ہو تو اس صورت میں تین ماہوا ریاں گزرنے سے مطلقہ کی عدت بھی پوری ہو جائے گی ۔
و قال تعالى ، والمطلقت يتربصن بانفسھن ثلاثة قروء (البقرہ /228)-
وفی الدر المختار: (وهي في) حق (حرة) ولو كتابية تحت مسلم (تحيض لطلاق) ولو رجعيااھ (3/504)۔
وفی فقه الاسلامی:فاذا اخبرت بانقضاء العدۃ فی مدۃ تنقضی فی مثلھا یقبل قولھا (الی قوله) واما اقل ماتصدق فیه المعتدۃ بالاقراء فقال ابو حنیفة:اقل ماتصدق فیه الحرۃ ستون یوما الخ (7/652)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0